ایک بوڑھی عورت سے اس کی خوشگوار زندگی کا راز پو چھا گیا

ایک عورت جس کا خاوند اس سے بہت پیار کرتا تھا اس عورت سے اس کی خوشیوں بھری زندگی کا راز پو چھا گیا کہ آیا کہ وہ بہت لذیز کھا نا پکاتی ہے یا اس کا خاوند اس کے حسن وجمال پر دیوانہ ہے یا وہ بہت زیادہ بچے پیدا کرنےو الی خاتون یا پھر اس کی محبت کا کوئی اور راز ہے اس عورت نے یوں جواب دیا کہ خوشیوں بھری زندگی کے اسباب اللہ کی ذات کے بعد خود عورت کے اپنے ہاتھوں میں ہے عورت چاہے تو وہ اپنے گھر کو خود جنت بنا سکتی ہے اور اگر چاہے تو جہنم بنا دے مت سوچئیے گا کہ مال و دولت خوشیوں کا سبب ہے تاریخ میں کتنی ہی مال دار عورتیں ایسی بھی گزری ہیں جن کے خاوند ان کے کنارہ کش ہو گئے نہ ہی بہت زیاہ بچے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی بہت بڑی خوبی ہے۔

کئی عورتو ں نے دس دس بچے جنے مگر ان کی کوئی بھی عزت نہ تھی کیونکہ انہوں نے اپنے رویے ٹھیک نہ کیے وہ اپنے شوہروں سے خصوصی محبت نہ پا سکے بلکہ نوبت طلاق تک جا پہنچی ۔ اچھا کھانا پکا نا بھی کوئی خوبی نہیں ہے۔ سارا دن کچن میں کھانے پکانے کے باوجود بھی عورتیں خاوند کی شکایت کر تی نظر آتی ہیں تو پھرآپ ہی بتا دیں اس پر سعادت اور مسرت بھری زندگی کا راز اور آپ اپنے خاوند اور اپنے درمیان درپیش مسائل و مشکلات سے کس طرح نپٹا کرتی تھیں اس نے جواب دیا کہ جب میرا خاوند غصے میں آتا اور بلا شبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا میں ان لمحات میں نہایت ہی احترام کے ساتھ مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی احترام کے ساتھ خاموشی یعنی آنکھوں سے حقارت اور طنزیہ پن نہ جھلکے آدمی بہت عقل مند ہوتا ہے ایسی صورتحال کو بھا نپ لیتا ہے۔

تو ایسے میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں خبر دار ایسی حرکت مت کر نا اس سے تو ایسا لگے گا کہ تم اس سے فرار چاہتی ہو اور اس کا نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی خاموشی تو ضروری ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اسے نہ صرف سننا بلکہ اس سے اتفاق رکھنا بھی اتنا ہی اشد ضروری ہے میرا خاوند اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جا تی تھی کیونکہ اس سارے شور شرابے کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اسے آرام کی ضرورت ہے میں اپنے روز مرہ کے گھریلو کاموں میں لگ جاتی اور اپنے دماغ کو اس جنگ سے دور رکھنے کی کوشش کرتی تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں کئی دنوں کے لیے لا تعلقی اور بول چال چھوڑ دینا وغیرہ۔ اس نے کہا ہر گز نہیں بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا ہے اور خاوند سے تعلقات بڑھانے کے لیے کافی ہے ۔ اگر تم خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے کہ شروع میں اس کے لیے تکلیف دہ ہو شروع میں وہ تم سے بولنے کی کوشش بھی کرے گا۔

لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اس کا عادی ہو تا چلا جا ئے گا تم ایک ہفتہ کے لیے بو لنا چھوڑو گی تو اس میں دو ہفتوں کے لیے نا بولنے کی استدعا پیدا ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ وہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے اس لیے خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے۔ میں جاہل نہیں ہوں کہ اپنے خاوند کی ان باتوں پر یقین کر لوں جو وہ غصے میں کہہ ڈالتا ہے اور ان باتوں کا یقین نہ کروں جو وہ مجھے محبت اور پر سکون حالت میں کہتا ہے تو پھر آپ کی عزتِ نفس کہاں گئی کیا عزت اسی کا نام ہے کہ تم غصے میں آئے ہوئے شخص کی تلخ باتوں پر تو یقین کر کے اسے اپنی عزتِ نفس کا مسئلہ بنا لو مگر اس کی ان باتوں کو کوئی اہمیت نہ دو جو وہ تمہیں پیار بھرے اور پر سکون ماحول میں کہہ رہا ہوتا ہے۔ میں فوراً ہی اس غصے کی حالت میں دی گئی گالیوں اور تلخ باتوں کو پی جاتی ہوں اور صبر کرتی ہوں ان کی محبت بھری اور مفید باتوں کو غور سے سنتی تھی جی ہاں خوش گوار اور محبت بھری زندگی کا راز عورت کی عقل میں موجود ہے مگر یہ راز اس کی زبان سے بندھا ہوا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *