ایک گھونٹ ایک رات صبح موٹا پا کنارے لگ جا ئے ۔ اس نسخے نے لا کھوں لوگوں کے پیٹ اندر کیے۔

وزن کم کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ اگر انسان کڑی ورزش اور سخت ڈائٹنگ کے ذریعے وزن کم کر بھی لے تو اس کے سنگین مضراثرات بھی ساتھ آتے ہیں اور سالہا سال تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔تاہم اب ایک معروف ڈاکٹر نے وزن کم کرنے کا ایک ایسا بہترین طریقہ بتا دیا ہے جس پر عمل کرنے سے آپ کا وزن بھی کم ہو جائے گا اور آپ کی صحت پر اس کے کوئی مضر اثرات بھی مرتب نہیں ہوں گے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ ڈاکٹر مائیکل گریگر ہیں جنہوں نے ڈائٹ اور موٹاپے پر کی جانے والی سینکڑوں تحقیقات کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ طریقہ وضع کیا ہے۔

ڈاکٹر مائیکل کہتے ہیں کہ اگر آپ وزن کم کرنے جا رہے ہیں تو کبھی بھی ناشتہ کرنا مت چھوڑیں کیونکہ کئی تحقیقات میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ناشتہ چھوڑ دینے سے موٹاپے پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور اس سے انسان نقاہت اور کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ وزن کم کرنے لیے یہ بات زیادہ معاملہ نہیں رکھتی کہ ’آپ کیا کھاتے ہیں‘ ۔ اس کی بجائے یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ ’آپ کب کھاتے ہیں‘۔ آپ صبح کے وزن جو کیلوریز لیتے ہیں وہ وزن بڑھانے یا کم کرنے پر زیادہ اثرانداز نہیں ہوتیں۔

اس کے برعکس آپ شام کے وقت جو کیلوریز لیتے ہیں وہ اس حوالے سے بہت اہم ہوتی ہیں اور آپ کے وزن میں کمی یا زیادتی کا انحصار انہی پر ہوتا ہے۔ چنانچہ اپنے دن کا ایک بھرپور کھانا رات کی بجائے ناشتے کے وقت کھائیں تو سب سے زیادہ بہتر ہو گا۔ آپ دوپہر کے وقت بھی یہ بڑا کھانا کھا سکتے ہیں۔ شام کے وقت انتہائی کم کیلوریز لیں۔صبح کے وقت دلیہ کھانا وزن کم کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس سے انسان کا پیٹ تادیر بھرا رہتا ہے اور وہ لنچ میں کم کھانا کھاتا ہے۔ اگر آپ وزن میں کمی لانے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس سلسلے میں ’براﺅن ایڈیپوز ٹشو‘ کو متحرک کرنابہت زیادہ اہم ہوتا ہے۔

آپ جانتے ہوں گے کہ ہمارے جسم میں ایک سفید چربی ہوتی ہے اور ایک بھوری چربی۔ سفید چربی جسم میں چربی کو جمع کرنے کا سبب بنتی ہے جبکہ بھوری چربی نہ صرف جسم میں چربی کو جمع ہونے سے روکتی ہے بلکہ اسے پگھلاکر کم بھی کرتی ہے۔ یہ بھوری چربی سینے، گردن اور کندھوں کے حصوں میں پائی جاتی ہے۔ اگر اسے متحرک کر دیا جائے تو وزن کم کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ اسے متحرک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کم درجہ حرارت میں رہیں۔ ایک تحقیق میں ثابت ہو چکا ہے کہ جو لوگ 16.5ڈگری سینٹی گریڈ میں رہتے ہیں ان کے جسم میں 22ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں رہنے والوں کی نسبت روزانہ 164کیلوریز زیادہ برن ہوتی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

bahçeşehir escort beylikdüzü escort