بیماریوں سے بچنے کی دعا

لعاب محمد ﷺ میں شفائے کاملہ تھی ۔اللہ کے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ بچوں کی پیدائش پر گھٹی کے طور پر اپنا لعاب دہن انہیں چٹاتے تو ہر وہ بچہ اپنے عہد کا سب سے مقبول اور علم و شجاعت میں یکتا ہوا جس کو یہ نعمت محمدی ﷺ حاصل ہوئی۔سرکار دوعالم بیماروں کو دم فرماتے اور ان کے زخموں پر لعاب مبارک لگاتے تو ان کے زخم فوری مندمل ہوجاتے ۔اس ضمن میں بخاری ،مسلمسمیت دیگر کتب میں مستند احادیث موجود ہیں۔

آقائے دوجہاں ﷺ اپنا مبارک لعابِ دہن اپنی انگشتِ شہادت سے زمین پر ملتے اور اسے منجمد کر کے بیمار شخص کی تکلیف کی جگہ پر ملتے اور اللہ تعالیٰ سے اس کی شفایابی کی دعا فرماتے۔اس دعا کا ذکر حضرت عائشہ ؓ یوں بیان فرماتی ہیں” جب کوئیانسان تکلیف میں ہوتا یا اسکو کوئی زخم ہوتا تو حضور نبی اکرم ﷺ اپنا لعاب دہن صاف مٹی کے ساتھ ملا کر لگاتے اور اس کی شفایابی کے لئے یہ مبارک الفاظ دہراتے بِسم ﷲ، تُربةُ أرضِنا، بريقة بعضنا، يُشفَی سَقِيْمُنا، بِإذنِ رَبِّنا. حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ لکھتے ہیں کہ ….”حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ ”ہم میں سے کسی کے لعاب دہن سے“ سے ثابت ہوتا ہے

کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دم فرماتے وقت مبارک لعابِ دہن لگایا کرتے تھے امام نوویؒ فرماتے ہیں ”اس حدیث کا مطلب ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا لعابِ دہن اپنی انگشتِ شہادت پر لے کر زمین پر ملتے اور اسے منجمد کر کے اسے تکلیف یا زخم کی جگہ پر ملتے اور ملتے ہوئے حدیث میںمذکورہ بالا الفاظ ارشاد فرماتے۔“ امام قرطبی ؒ کا فرمان ہے ”اس حدیث سے ہر بیماری میں دم کرنے کا جواز ثابت ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ کے درمیان یہ امر عام اور معروف تھا۔“ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی انگلی مبارک زمین پر رکھنا اور اس پر مٹی ڈالنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دورانِ دم ایسا عمل کرنا درست اور جائز ہےسیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : سفر ہجرت کی رات غار کے پاس پہنچ کر سیدنا ابوبکر نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : اللہ کے لیے ابھی آپ اس میں داخل نہ ہوں ۔ پہلے میں داخل ہوکر جائزہ لیتا ہوں ، اگر اس میں کوئی ایسی چیز ہو تو آپ کی بجائے اس کا مجھ سے سابقہ پڑے ۔

چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر گئے اور غار کو اچھی طرح صاف کیا ، ایک جانب چند سوراخ تھے جنہیں اپنا تہہ بند پھاڑ کر بند کر دیا ، لیکن دو سوراخ ابھی بھی باقی بچ گئے جن پر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا پاؤں رکھ دیا ۔ اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اب آپ اندر تشریف لے آئیں ، آپ ﷺ اندر تشریف لے آئے اور سیدنا ابوبکر کی آغوش میں سر رکھ آرام فرمانے لگے ۔ ادھر ابوبکر کے پاؤں کو کسی چیز نے ڈس لیا لیکن اس ڈر سے ہلے نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نیند میں خلل نہ آئے ۔ پس ان کے آنسو آپ ﷺ کے چہرہ انور پر ٹپک پڑے اور آپ ﷺ کی آنکھ کھل گئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ابوبکر تمہیں کیا ہوا ؟عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ! مجھے کسی چیز نے ڈس لیا ہے ۔فَتَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ فَذَهَبَ مَا يَجِدُهُ .جس پر رسول ﷺ نے اپنا لعاب مبارک لگایا تو تکلیف ختم ہو گئی ۔(رحیق المختوم : 231 : بتصرف)

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

beylikdüzü escort bahçeşehir escort