جبر یل ؑ پندرہو یں شعبان کی رات کو میرے پاس آ ئے اور کہا: آج کی رات اللہ تعالیٰ بنو کلب کی بکر یوں کے بالوں کے بر ا بر گ ن ا ہ گاروں کو بخش دیتا ہے

فر مان ِ مصطفیٰ ﷺ ہے : جبر یل ؑ پندر ہویں شعبان کی رات کو میرے پاس آئے اور کہا آج کی رات اللہ تعالیٰ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے بر ابر گ ن ا ہ گاروں کو بخشش دیتا ہوں یہ میں حدیث کا مفہوم بیان کر رہا ہوں اور یہاں پر بنو کلب کی بکر یوں سے مراد یہ ہے کہ وہاں کی جو بکر یاں ہیں ان کے جسم پر بال بہت زیادہ ہوتے ہیں گھنے بال ہوتے ہیں

تو اس لیے آپ ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ بنو کلب کی بکر یوں کے بالوں کے بر ابر گ ن ا ہ گاروں کی بخشش فر ما دیتا ہے مگر وہ بد نصیب پانچ لوگ ایسے ہیں کہ جن کی اللہ اس رات کو بھی بخشش نہیں فر ما تا تو آئیے میں آپ کو بتا تا ہوں کہ وہ پانچ لوگ کون کون سے ہیں پہلے نمبر پر م ش ر ک ۔ ش ر ک کرنے والا۔

اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کسی اور ٹھہراتا ہے ۔ش ر ک کرنے والا یاد رکھیں حدیث نبوی ﷺ ہے کہ ش ر ک جو ہے وہ بہت بڑا ظ ل م ہے تو اس لیے ش ر ک سے جو ہے اللہ ہم سب کو بچائے دوسرا وہ بندہ جو کینا بغض رکھتا ہو کینا رکھنے والا کینا حسد بغض رکھنے والا شخص جو ہے

ا س کو بھی اللہ تعالیٰ معاف نہیں فر ما ئیں گے اور تیسرا رشتوں کو تو ڑنے والا۔ رشتے داروں کے ساتھ تعلقات توڑنے والا۔ رشتے داروں سے قطع رحمی کرنے والا اور چوتھا شخص تکبر سے اپنے آپ کو گھسیٹ کر چلنے والا یعنی عام الفاظ میں تکبر کر نے والا۔ عام الفاظ میں تکبر کر نے والا جو شخص جو ہے گھمنڈ کر تا ہے فخر کرتا ہے تکبر کر تا ہے اپنے آپ کو لوگوں کے سا منے جو ہے

بہت زیادہ بڑا سمجھتا ہے تو اس کو بھی اللہ تعالیٰ معاف نہیں فر ما ئیں گے اور اگلا شخص جو ہے وہ ہے والدین کا نا فر ما ن ۔ جو بندہ اپنے والدین کا نا فر ما ن ہے قرآنِ مجید میں ہے کہ اپنے والدین کو اُف تک نہ کہیں تو اگر کوئی بندہ والدین سے والدین کی نا فر ما نی کر تا ہے

تو توبہ کر لے ورنہ اس کی بھی بخشش نہیں ہو گی اور اس کے بعد ایک اور شخص ہے ش ر ا ب ی ۔ مطلب ش ر ا ب پینے والا یہ وہ شخص ہے جس کی اس با بر کت دن بھی بخشش نہیں ہو تی ۔ اس کی بھی اللہ تعالیٰ بخشش نہیں فر ما ئیں تو اللہ سے دعا کر تے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو جو ہے ہدایت عطا فر ما ئے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

bursa escort beylikdüzü escort akbatı escort