حاملہ عورت ان دس چیزوں کا استعمال کریں بچہ خوبصورت اور موٹا تازہ پیدا ہوگا

جہاں غیر معیاری اور ناقص غذا ہماری صحت کو نقصان پہنچاتی ہے وہیں حاملہ عورت کے پیٹ میں پلنے والے بچے پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ غیر معیاری غذا کے استعمال خون میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ جو کہ بچہ ماں کے خون سے اپنی خوراک اور ضروری غذا حاصل کرتاہے۔ اس حمل کےدوران حاملہ عورت کی غذا کم یا ناقص ہو تو اس کے نتیجے میں بچہ کمزور اور وقت سے پہلے پیدا ہوجاتا ہے ۔ بعض دفعہ معذور بھی ہوجاتاہے۔ اس لیے حمل کے دوران اچھی اور نیوٹرینز سے بھر پور ڈائیٹ ہی ، ماں اور بچے کی صحت کےلیے بہت مفید ہے۔ اور ایسی غذا کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے جو جسم میں خون کی کمی اور آئرن کی کمی نہ ہونے دے ۔

کیونکہ حمل کے دوران زیادہ تر مسائل خون کی کمی کی وجہ سے آتے ہیں۔ تو آئیے جان لیتے ایسی غذاؤں کے بارے میں جن کے استعمال سے حاملہ خواتین نہ صرف خود کو بہتر پائیں گے۔ بلکہ بچے صحتمند اور خوبصورت پیداہوں گے۔ وٹامن سی اورآئرن اور فائبرز سے بھر پور غذاؤں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ کیونکہ وٹامن سی اورآئرن قوت مدافعت بڑھاتاہے۔ پہلے ڈیری کی بنی اشیاء مثلاً دودھ ، مکھن ، دہی اور لسی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ کیونکہ ان میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کی بھر پور مقدار پائی جاتی ہے۔ جس سے بچے کی نشوونما صیحح طریقے سے ہوتی ہے۔ ایسی خواتین جن کو قبض کا مسئلہ رہتاہے۔ وہ فائبرز سے بھرپور یعنی ریشہ دار غذاؤں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ ان سے گیس کا مسئلہ نہیں ہوگا۔ فائبرز سے بھر پور غذاؤں میں انجیر، بادام ، اخروٹ اور خشک میوہ جات ہیں ۔ لیکن ان کا استعمال مناشت مقدار میں کرنا چاہیے۔ پہلے تین مہینے میں ان کااستعمال ہرگزنہ کریں۔

اس کے بعد ان کی تھوڑی تھوڑی مقدار روزانہ استعمال کریں۔بہتر یہ ہوگا کہ خشک میوہ جات استعمال کرنے سے پہلے تین چار گھنٹے کے لیے پانی میں بھگو کر رکھ دیں ۔ اس کے بعد اس کا استعمال کریں۔ اس سے بہت زیادہ فائد ہ پہنچے گا۔ اس کے علاوہ پروٹین کی مناسب مقدار حاصل کرنے کے لیے گ۔وشت، انڈے اور مچھلی کا استعمال لازمی ہے۔ مچھلی کا استعمال ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ لازمی کریں۔ بڑا گ۔وشت، چکن، بکرے کے گ۔وشت کااستعمال مناسب مقدار میں کرنا چاہیے۔ کیونکہ ان زیادہ استعمال قبض وغیرہ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایسی خواتین جو گ۔وشت مچھلی کا استعمال نہیں کرتیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ دالوں کا استعمال بڑھا دیں۔ کیونکہ دالوں میں گ۔وشت جیسے پروٹین پائے جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہری پتیوں والی سبزیوں کا استعما ل زیادہ سے زیادہ کرناچاہیے۔ ہری سبزیوں میں وٹامن، منرلنزبھرپور مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ہری پتی والے سبزیوں میں شلجم، کدو، ٹینڈے ، مٹر ، ٹماٹر ، چقندراور بند گوبھی وغیرہ ۔ ان تمام چیزوں کے علاوہ پھلوں کااستعمال بھی بہت زیادہ ضروری ہے کیونکہ پھلوں میں کیلشیم، آئرن، منرلنزاور وٹامنز سی بہت زیادہ پایاجاتا ہے۔ پھلو ں میں سیب، کیلا، امردو، آڑو، تربوز کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ کیونکہ ان پھلوں کا استعمال خون کی کمی نہیں ہونے دیتا۔ اس کے علاوہ پپیتا، پائن ایپل اور آم کا استعمال ہرگز نہیں کریں۔ اس کے استعمال سے حمل ضائع ہونے کی شکایت رہتی ہے۔ اس کے علاوہ پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں ۔ کیونکہ حاملہ خواتین کو پانی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ پانی کی وجہ سے بچے کی گروتھ میں بھی مسئلہ ہوتاہے۔ ایسی خواتین کو اٹھراہ ہوتا ہے وہ گ۔وشت اور خشک میوہ جات اور تلی ہوئی اشیاء اور جنک فوڈذ سے مکمل پرہیز کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *