دل کی کمزوری ابھی دور کر یں۔

ٌمیر تقی میر کہا کرتے تھے “الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا، دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا”، ان کا اشارہ تو قلب کی رومانوی وارداتوں کی جانب تھا جو کہ ہر انسان کی ہی من پسند ہوتی ہیں مگر ہمارے جسم کا یہ اہم ترین حصہ دنیا میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔جیسا کہ مرزا غالب نے بھی فرمایا ہے “دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے، آخر اس درد کی دوا کیا ہے”، تو حقیقت تو یہ ہے کہ دل کے امراض بیشتر ممالک میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہوتے ہیں اور اس کی انتباہی علامات کو سمجھنا مسائل سے بچنے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ہر سال 29 ستمبر کو امراض قلب کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے ‘ورلڈ ہارٹ ڈے’ منایا جاتا ہے۔تو اپنے دل کے بارے میں اہم اور بنیادی چیزیں جانیے جو دھڑکن رواں رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔

یند تو سب کو ہی پیاری ہوتی ہے مگر کچھ لوگ اتنے زیادہ مصروف رہنے کے عادی ہوتے ہیں کہ بہت کم سو پاتے ہیں اور اگر کوئی شخص رات میں چھ گھنٹے سے بھی کم سوتا ہو تو اس میں دل کے امراض کا خطرہ سات سے آٹھ گھنٹے تک سونے والوں کے مقابلے میں دوگنا زائد ہوتا ہے۔گزشتہ برس جون میں ہونے والی نیدرلینڈ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ دی انوائرمنٹ اور ویگینگن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سات یا اُس سے زائد گھنٹے کی نیند دل کی صحت کو بڑھاتی ہے اور ورزش، خوراک، تمباکو نوشی وغیرہ کی روایتی نصیحتوں پر عمل نہ بھی کیا جائے تو بھی دل کے امراض کے ہاتھوں متعدد زندگیوں کو بہتر نیند سے بھی بچایا جاسکتا ہے۔

یقیناً جسمانی وزن معنی رکھتا ہے مگر کمر کی چوڑائی دل کی صحت کی جانچ کا زیادہ بہترین طریقہ بھی ثابت ہوتا ہے، اگر خواتین کی کمر 40 اور مردوں کی 45 انچ سے زائد ہو تو اُن میں دل کے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔رواں سال مئی میں سامنے آنے والی لندن کالج یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کسی بھی عمر میں جسمانی وزن کم کرنا آپ کے دل کی صحت کو بہتر بناتی ہے۔اس تحقیق کے مطابق جس شخص کا وزن زیادہ ہوگا اسے درمیانی یا بڑھاپے کی عمر میں دل سے متعلق مسائل کا سامنا بھی زیادہ ہوگا جبکہ بلڈ پریشر اور ذیابیطس بونس میں جسم کا حصہ بن جائیں گے۔ہنسی دنیا کی بہترین اور مفت دوا ہے کیونکہ ہمارا جسم ہنسنے پر تناﺅ کا سبب بننے والے ہارمون کورٹیسول کی شرح کو کم کردیتا ہے، جب تناﺅ کم ہوتا ہے۔

تو بلڈ پریشر بھی گِر جاتا ہے، ایک حالیہ تحقیق کے مطابق تناﺅ کا شکار رہنے پر دل کے دورے کا خطرہ ہنسنے ہنسانے والے افراد کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے امریکا کی ایموری یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ جسم میں چھپا تناؤ اور ڈپریشن دل کی صحت کو متاثر کرتا ہے اور دل کا دورہ پڑنے کی صورت میں بچنے کا امکان بھی کم ہوجاتا ہے۔اسی طرح کیلیفورنیا کی لنڈا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ہنسنا بھی چہل قدمی کی طرح انسانی قلب کے لیے بہت فائدہ مند ہے، صرف 20 منٹ تک کوئی پُرمزاح شو دیکھنے سے ہی بلڈ پریشر اور تناﺅ کم ہوجاتا ہے اور دل کے امراض اور ذیابیطس کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

bullet force multiplayer unblocked shell shockers unblocked