دماغی کمزوری کا مکمل اور شرطیہ علاج

دماغ کی کمزوری۔ بڑا ہی اہم مسئلہ ہے۔ یہ بڑا ہی اہم مسئلہ ہے اگر انسان کا دماغ کمزور ہو جائے تو اسے کچھ چیز یں یاد نہیں رہتیں اگر کوئی چیز وہ یاد کر نا چاہتا ہے کوئی بزنس کر نا چاہتا ہے کوئی بھی کام کر نا چاہتا ہے مگر اگر اس کا دماغ کمزور ہے  تو اگر اس کے سوچنے کی صلاحیت کمزور ہے اگر اس کو چیزیں یاد نہیں رہتیں تو اس کے لیے زندگی میں آگے بڑھنا بہت ہی مشکل کام ہے کیو نکہ نہ تو اس کے ذہن  میں کوئی بات ٹھہرتی ہے اور نہ ہی اس کے دماغ میں  نہ ہی کوئی سوچ آتی ہے مستقبل کو لے کر تو ایسے میں انسان بہت ہی زیادہ بے بس ہو کر رہ جا تا ہے اور اپنے ماضی  میں ہی رہ جا تا ہے ۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کو ماضی تک یاد نہیں رہتا اور اس کےساتھ ایسی بھی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ نہ ہی اس کو ماضی یاد رہتا ہے اور نہ ہی وہ حال میں جی رہا ہوتا ہے اور نہ اس کا کوئی مستقبل ہوتا ہے ۔  وہ پاگل ہو کر رہ جاتا ہے ایسا اسی لیے ہی ہوتا ہے کہ  کیو نکہ اسکی دماغی کمزور ی جو ہوتی ہے اس کو جینے پر مجبور ہی نہیں کرتی ہے نہ اس کو ماضی کا چھوڑتی ہے اور نہ ہی اس کو حال کا چھوڑتی ہے اور نا ہی اسے کوئی مستقبل کو لےکر کوئی اس کے دماغ میں سوچ آتی ہے وہ بس مفلوج کا مفلوج ہو کر رہ جا تا ہے۔

کام کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے دماغ کا مضبوط اور طاقت ور ہو نا ضروری ہے تو اس کے لیے میں سب سے پہلے تو میں آپ کے سامنے اتنا چھوٹی سی بات رکھتا ہوں جو میرے نالج کچھ عرصہ پہلے آئی ہماری ٹیچر حضرات کی ایک میٹنگ تھی تو اس میں ایک ساتھی جو غالباً بر طانیہ سے آئے تھے وہ ہمیں بتلا رہے تھے جب بھی ہمارے پاس کوئی ایسا مریض آتا ہے جس کا دماغ کمزور ہو تو ہم اسے دس منٹ کے لیے کان پکڑواتے ہیں جیسے ہم یہاں پر ہمارا جو ماحول ہے اس میں ہم مرغا بنا تے ہیں تو اس میں انہوں نے کہا ہم ہفتے میں تین دن کا کام کرتے ہیں دس دس منٹ اسے کان پکڑواتے ہیں تو ایک مہینے بعد اس کی رپورٹ بہت ہی اچھی آتی ہے وہ پڑھائی میں تیز ہو جاتا ہے تو میں  ہم وہاں سے متاثر ہوئے ہم نے کہا جب ہم چھوٹے تھے یا عام روٹین میں ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے تو یہاں پر جس بچے کو سبق یاد نہ ہو اسے مرغا بنا یا جا تا ہے یعنی کہ اسے کان پکڑوائے جاتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *