دھنیا اس طریقے سے استعمال کریں دنوں میں موٹاپا کم ہوجائے گا، شوگر کے لئے سپر فوڈ ہے۔

دھنیا جسے طبی زبان سے کشنیس سے موسوم کیاجاتا ہے

انگریزی میں کورینڈر کے نام سے پکارتے ہیں دھنئے کو ادویاتی اور غذائی طور پر پانچ ہزار قبل مسیح سے استعمال کیاجارہاہے اور اب یہ اپنی جائے پیدائش بحریرہ روم سے تمام دنیا میں پھیل چکا ہے بائبل میں ہرے دھنئے کا منا کے عنو ان سے تذکرہ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے سبز رنگ کی پتیاں دھنیاجنوب مشرقی یورپ میں جنگلی طور پر اگتا ہے اور اس کی کاشت مصر انڈیا پاکستان اور چین میں صدیوں سے ہو رہی ہے اس پودے کے پتے اور بیج دونوں استعمال میں لائے جاتے ہیں یہ پودا سارا سال پایا جاتا ہے اس کے بیج ہلکے زرد رنگ کے ہوتے ہیں جب یہ پک جاتے ہیں تو ان کی مصالحہ جاتی خوشبو محسوس ہوتی ہے اس پودے کو صدیوں سے بطور دوا اور غذا استعمال کیاجارہا ہے دھنیا سب سے پرانا پودا ہے جو بطور مصالحہ استعمال کیا گیا اسے یونانی اور رومن کلچر میں استعمال کیا جاتا رہا ہے اسے گوشت کو محفوظ کرنے کے لئے استعمال کیاجاتا تھا

پرانے اطباء میں بقراط بطور اسے دوا استعمال کرواتے تھے روس انڈیا مراکو اور ہالینڈ تجارتی بنیادوں پر اس کی کاشت کرتے ہیں اسے بطور سلاد استعمال کرنے کا بہت پرانا رجحان ہے اس پودے کو مندرجہ ذیل چار حالتوں میں استعمال میں لایا جاتا ہے تیل یا لیکوئیڈ تازہ پودا خشک بیج اور پتے ۔اگر آپ اسے احتیاط سے استعمال نہیں کریں تو وہ نقصانات بھی ہیں جو آپ کی زندگی تباہ کرسکتے ہیں ۔دھنیا ایک مشہور زمانہ بوٹی ہے جس کا شمار سبزی میں توہوتا ہے لیکن یہ الگ سبزی کے طور پر نہیں پکائی جاتی ہے البتہ سالن میں شامل ضرور کی جاتی ہے اسے کم و بیش روز کھایا جاتا ہے سبز دھنیا کی سرسبز اور ترو تازہ پتیاں نہ صرف دیکھنے والوں کی نگاہوں کو ترواہٹ بخشتی ہیں بلکہ یہ غذا کابھی اہم جزو ہیں اس میں پوٹاشیم کاپر آئرن زنک وٹامن بی سی اور میگنیشیم پایا جاتا ہے طبی لحاظ سے سبز دھنیا اور خشک دھنیا نہایت مفید ثابت ہوئے ہیں اکثرو بیشتر جن مریضوں کی بھوک ختم ہوجاتی ہے

ان کی اشتہا بڑھانے کے لئے طبیب ہرے دھنئے کی چٹنی یا اس کی پتیاں تجویز کرتے ہیں سبز دھنیاں نظام انہضام کو درست رکھتا ہے اس کے استعمال سے کولیسٹرول میں کمی واقع ہوتی ہے معدے کی جلن میں مفید ہے متلی اور پیچش میں اس کا استعمال فائدہ مند ہے دھنیا کثرت حیض میں کمی لاتا ہے جوڑوں کے دردوں میں آرام لاتا ہے شوگر کے مریضوں کی بڑھی ہوئی شکر میں کمی لاتا ہے پیٹ درد میں مفید ہے مقوی دل و دماغ ہے کثرت شہوت میں کمی لاتا ہے اس کے استعمال سے اچھی نیند آتی ہے بواسیر کا خ و ن آنا بند ہوجاتا ہے پیشاب جل کر نہیں آتا پیٹ درد اور گیس کو ختم کرتا ہے انتڑیوں کی کمزوری دور ہوجاتی ہے منہ کے چھالوں اور السر میں کھانا صحت دیتا ہے جوڑوں کی سوجن کو دور کرتا ہے خ و ن کی کمی کو دور کرتا ہے پیشاب آور ہے گردن کے لئے بھی مفید ہے کثرت احتلام میں فائدہ دیتا ہے جن مرد حضرات میں قوت باہ کی کمی ہو وہ اس کا استعمال ہر گز نہ کریں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

beylikdüzü escort bahçeşehir escort