سادہ پانی میں اس عام سی چیز سے پھیپھڑوں کی مکمل صفائی

آپ کو خوب پانی پینا چاہیے۔ ہر روز آٹھ گلاس یا دو لیٹر پانی تو پینا ہی چاہیے۔ایسے بن مانگے مشورے تو ہم سبھی کو ملتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن پانی کے بارے میں اس طرح کے خیالات ہمیشہ سے نہیں ہیں۔انیسویں صدی کے آغاز تک زیادہ پانی پینا بری بات سمجھا جاتا تھا۔ سماج کے اونچے طبقے کے افراد زیادہ پانی پینا اپنی توہین سمجھتے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ پیٹ کو پانی سے بھرنا تو غریبوں کا کام ہے۔ وہ ایسا کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔تاہم آج کل دنیا بھر میں خوب پانی پیا جاتا ہے۔ امریکہ میں بوتل بند پانی کی مانگ سوڈے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں بھی لوگ خوب پانی پی رہے ہیں۔

ایسا اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ دن رات لوگوں کو خوب پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ زیادہ پانی پینے کو اچھی صحت کا راز اور خوبصورت جلد کی وجہ بتایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ پانی پی کر کینسر اور وزن سے چھٹکارے کے نسخے بھی عام ہیں۔ سائنسدانوں کو اب تک اس بات کے ثبوت نہیں ملے کہ خوب پانی پینا چاہیے۔ پیتے ہی جانا چاہیے۔ بلکہ ان کا خیال ہے کہ پانی تب پیجیے جب آپ کو پیاس محسوس ہو۔ہلکی پھلی پیاس کے مرحلے سے بچنے میں بھی کچھ فائدے ضرور ہیں۔ بعض تجزیوں کے مطابق اس سے دماغ کو کام کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔باقاعدگی سے پانی پی کر ہم وزن بھی کم کر سکتے ہیں۔

امریکہ کے ورجینیا پالیٹیکنک انسٹیٹیوٹ کی برینڈا ڈیوی کہتی ہیں کہ کم پانی پینے والوں کے مقابلے میں زیادہ پانی پینے والوں کا وزن زیادہ تیزی سے کم ہوتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ ہلکی پھلکی پیاس یا پانی کی کمی ہونا بہت عام بات ہے اور میادہ تر لوگوں کو اس مرحلے کا احساس نہیں ہوتا اور اتنی سی کمی بھی آپ کے موڈ اور توانائی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ خوب پانی پینے سے آپ کی جلد صاف رہتی ہے، لیکن سائنسدانوں کو اس بات کے بھی ثبوت نہیں ملے ہیں۔ ہم میں سے جو لوگ ہر روز آٹھ گلاس پیتے ہیں وہ نقصان نہیں کر رہے۔

لیکن جسم کی طلب سے زیادہ پانی پیتے رہنے کے چند نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ اس سے جسم میں سوڈیم کی کمی ہو جاتی ہے۔ سوڈیم کی کمی سے دماغ اور پھیپھڑوں میں سوجن ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر کورٹنی کپس نے بتایا کہ ہم جسم سے ملنے والے اشاروں کو نظر انداز کر کے اپنی مرضی سے پانی پیتے چلے جاتے ہیں، یہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر کپس کے مطابق گزشتہ تقریباً ایک دہائی میں کم سے کم پندرہ ایتھلیٹ کسی ایونٹ کے دوران زیادہ پانی پینے سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ اپنے جسم کے کے نظام پر بے اعتباری ہے اور جتنی طلب ہو اس سے زیادہ پانی پینا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *