سینے کی جلن اور تیزابیت کا جڑ سے خاتمہ

آج ہم بات کر یں گے معد ہ کی تیزابیت کے بارے میں ۔ ہم سب کی اس بات سے واقف ہیں کہ معدے کی تیزابیت دراصل ہوتی کیا ہے یہ ایک ایسی بیماری ہے کہ جس سے کوئی بھی خوراک ہم کھا لیں پہلے تو وہ ہضم نہیں ہوتی اور اگر وہ ہضم ہو بھی جا ئے تو وہ بہت ہی تکلیف دیتی ہے تکلیف دینے سے یہاں مراد یہ ہے کہ یہ خوراک جو ہمارے جسم میں ہضم ہو چکی ہوئی ہوتی ہے یہ ہضم تو ہو جاتی ہے مگر ہمارے جسم میں کھٹی ڈکاروں کی صورت میں شامل ہی رہتی ہے یعنی کہ ہضم تو ہو ہی جاتی ہے مگر ٹھیک سے ہضم نہیں ہوتی کہ جس کی وجہ سے انسان بہت ہی زیادہ پریشان رہتا ہے اور پریشان رہنے کے ساتھ ساتھ بے چین رہتا ہے۔

یہ ایک ایسی بیماری ہےجو عام ہو چکی ہے اس کا کوئی علاج نہیں ہے ایسا میں نہیں۔۔۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں ۔ ڈاکٹرز جو ہیں ہمیں مختلف قسم کی دوائیں لکھ کر دے دیتے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے جسم کے جو آرگنز ہوتے ہیں وہ مزید خراب ہو جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم میں جو آرگنز ہوتے ہیں وہ ان دواؤں کی وجہ سے بہت ہی نقصان اٹھاتے ہیں تو آج میں آپ لوگوں کو ایک ایسا نسخہ بتانے کے لیے جا رہی ہوں کہ جس کے استعمال سے آپ آپ کے معدے کی تیزابیت کو بہت ہی جلد دور کر سکتے ہیں اس نسخے کے استعمال سے ہر قسم کی معدے کی جلن معدہ کا درد اور معدہ کی تیزابیت سمیت ہر بیماری غرض معدہ کی جتنی بھی بیماریاں ہیں سب کا علاج کر سکتے ہیں۔

تو میری تمام باتوں کو غور سے سنیے گا اور ان پر عمل بھی کیجئے گا تا کہ میری ان تمام باتوں پر اور میرے اس بتائے ہوئے نسخے پر آپ عمل کر کے بہت ہی زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔ جیسا کہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ باہر کے کھانے زیادہ چٹخارے دار کھانے کھانے کی وجہ سے اور ان کھانوں کی وجہ سے بہت ہی زیادہ موٹاپا ہو جانے کی وجہ سے اور اس کے ساتھ ساتھ موٹاپا بڑھ جانے کی وجہ سے بہت سی بیماریوں کا شکار تو ہوتا ہی ہے انسان لیکن ان بیما ریوں کے ساتھ ساتھ وہ معدے کی تیزابیت کا بھی شکار ہو جاتا ہے جس سے بچنا بہت ہی مشکل کا م ہے۔ دودھ کے اندر ایسے وٹامنز موجود ہوتے ہیں۔

جو کہ ہمارے معدے کی تیزابیت کو کم کرنے میں اثر دار ثابت ہوتے ہیں اس کے لیے آپ ایک گلاس دودھ کے اندر ایک چمچ سونف کو ملا لیں اس سے پانچ سے دس منٹ تک اچھی طرح پکائیں اور اس کو اچھی طرح ٹھنڈا کر لیں سونف ملے دودھ کے استعمال سے انشاء اللہ معدے کی تیزابیت دور ہو جائے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *