شیمپو کی جگہ اس پانی سے اپنے بال دھو ئیں

بہت ہی زیادہ زبردست اور متاثر کن نسخہ آپ لوگوں کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے جا رہی ہوں۔ میں حاضر ہوں ایک بہترین سا نسخہ لے کر بالوں کی گروتھ کو بہتر بنانے اور گرنے سے روکنے کے لیے اس کے ساتھ ساتھ میں آپ کو دو چیزوں سے تیار کیے ایسے پانی کے بارے میں بتاؤں گی جس سے بال دھونے سے بال آپ کے بال بنیں گے سلکی اور چمک دار اور گھنے اس کے ساتھ میں آپ کو دو ٹپس بھی دوں گی جس کے ذریعے آپ کے بالوں کی سبھی مسائل جو ہیں وہ حل ہو ں گے تو آج کی باتیں آپ کے لیے بہت ہی زیادہ فائدہ مند ہیں اور اس ریمیڈی کو بنانے کے لیے سب سے پہلی چیز جو چاہیے وہ ہے پیاز کا رس پیاز کا رس اکثر بالوں کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔

میں یہاں آپ کو تھوڑا سا بتا دوں کہ یہ ہمارے بالوں کے لیے اس قدر اہم کیوں ہے۔ ایک تو پیاز کے رس میں سلفر کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو کہ بالوں میں غدودوں میں خون کے بہاؤ کے عمل کو تیز کر دیتی ہے اس کے علاوہ اس کے بہت سے فوائد ہیں یہ جراثیم کا صفایا کر تا ہے سر کی جلد کا بھی علاج کر تا ہے جس سے بال گر نا بند ہو جا تے ہیں اس لیے پیاز کا رس اکثر بالوں کے لیے استعمال کیا جا تا ہے ہو سکے تو آپ صرف پیاز کا استعمال کر یں آپ ایک درمیانے سائز کا سرخ کلر کا پیاز لیں اس کا رس نکا لنے کے لیے آپ پیاز کو کش کر یں۔

پھر اس کو کپڑے میں ڈال کر اچھی طرح سے نچوڑ کر اس کا رس نکال لیں اس کا رس جوسر مشین میں بھی نکال سکتے ہیں تیسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ پیاز کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر پیاز کو گرینڈ بھی کر سکتے ہیں۔ تھوڑا سا پانی ڈال کر کپڑے میں اس کو اچھی طرح سے نچوڑ کر پیاز کا رس نکال لیں یہ تو طریقہ تھا پیاز کا رس نکالنے کا ۔ پیاز کا رس نکالنے کے بعد آپ اس میں شامل کر یں گے ایلو ویرا جیل آپ کو فیرش ایلو ویرا جیل استعمال کر نی ہے۔

اس میں ڈالیں گے تین چمچ ایلو ویراآپ کے بالوں کی جڑوں کو مضبوط کر تا ہے انہیں صحت مندر بناتا ہے اور گرنے سے بھی روکتا ہے اور آخر میں زیتون کا تیل آپ جانتے ہیں کتنا فائدے مند ہے ہمارے بالوں کے لیے ایک چمچ ڈال دیں اب ان تینوں چیزوں کو آپ اچھی طرح سے مکس کر لیجئے بالوں ی گروتھ کو بہترین بنانے کے لیے یہ بہترین قسم کی ریمیڈی تیار ہے تینوں چیزوں کو مکس کر نے کے بعد ان چیزوں کا اس ریمیڈی کو اپنے بالوں پر لگا ئیں انشاء اللہ آپ کے بال بہت ہی زیادہ اچھے ہو جا ئیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.