صرف دو چیزیں لیموں اور ادرک

بھوک نہ لگنا یا کم لگنا ایک ایسی بیماری ہے جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اگر اس پر توجہ نہ دی جائے ۔ تو اس بیماری سے  کئی اور بیماریاں پید اہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔ کیونکہ کھانا نہ کھانے سے جسم کوتوانائی نہیں ملتی۔ جس سے جسم کے اعضاء کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ بھو ک نہ لگنے کی چند اہم وجوہات کا ذکر کریں گے ۔ اور بھو ک کو بڑھانے کے چند مفید گھریلو ٹوٹکے بھی بتائیں گے ۔ تاکہ آپ کو اگر بھو ک کی کمی کی شکایت ہے۔ تو ان ٹوٹکوں کو استعما ل کرکے اپنی بھوک بڑھا سکیں۔ آپ بھو ک نہ لگنے کی وجوہات بتاتے ہیں۔ بھوک نہ لگنا: بھوک کا نہ لگنا  یا کھانے کو جی نہ چاہنا ایک بیماری ہے۔ جس میں کھانے کے بارے  میں سوچنے سے بھی جی متلانے لگتا ہے۔ اور اگر یہ بیماری زیادہ لمبے عرصے تک کنٹرول نہ کی جائے تو جسم بھو ک کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے۔

اس سے   میڈیکل یا نفسیاتی  کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے۔ اور اگر بھوک نہ لگنے کےساتھ ساتھ بلاوجہ تھکاوٹ کا شکار بھی ہیں۔ تو یہ وارننگ سائن ہے۔ جس پر توجہ دینی ضروری ہے۔ اوراگر بھو ک نہ لگنے کے ساتھ ساتھ آپ تھکاوٹ  بھی محسو س کرتے  ہیں۔ تو یا د رکھیے ! تھکاوٹ اور بھوک نہ لگنا صحت میں کئی خرابیوں کی نشانی ہوسکتی ہے۔ جس میں عام طور پر  نزلہ، زکام اور بخار جیسی علامات بھی شامل ہیں۔ ذہنی تناؤ: ذہنی تناؤ او رپریشانی بھی ایسی علامات ہیں۔ جو بھوک کوختم کرنے کےساتھ ساتھ جسم میں تھکاوٹ  پیدا کرتی ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ نظام انہضام میں خرابی کاباعث بھی بھوک کا ختم کرنے کا باعث بنتی ہے۔ کئی اور ایسی سنجید ہ بیماریاں جیسے کہ کینسر وغیرہ بھی بھوک کو ختم کرکے جسم  میں تھکاوٹ پیدا  کرتا ہے۔ اس لیے طبیب حضرات کا کہنا ہے

کہ ایسی صورت میں بھوک نہ لگنے اور تھکاوٹ محسوس کرنے کی ا س نشانی  کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے تاکہ جلد ازجلد مرض کی تشخیص ہوسکے۔ اور اس کا وقت پر علاج ہوسکے۔ چند             اور بھی وجوہات یہ بھی ہوسکتی ہیں۔ پہلی وجہ ہے انفیکشن ۔ کئی طرح کے انفیکشن کی وجہ سے بھو ک کم ہوجاتی ہے ۔و ہ انفیکشن جن کی وجہ سے بھوک لگنا کم ہوجاتی ہے۔ ان میں نمونیا، سینہ جکڑنا، ہیپاٹائٹس ، جگر پر ورم ، ایچ۔آئی ۔وی ایڈز، انفلوئنزا اور گردن کا انفیکشن شامل ہےدوسری وجہ ہے مختلف قسم کی بیماریاں۔ بہت سی بیماریاں بھوک میں  کمی کا باعث بنتی ہیں۔ معدے کی بیماریاں او ر خاص طورپر او رآنتوں کے کینسر  میں بھوک لگنا  کم  ہوجاتی ہے۔ گردوں ، جگر  اور دل کی بیماریاں بھی  بھو ک میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔

اسی طرح نفسیاتی  بیماریاں جن میں ڈپریشن، بے چینی اور ہیجان کی کیفیت شامل ہے۔ اور بھوک میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔ خاص طور پر جب ان بیماریو ں میں اچانک اضافہ ہو۔ تیسری وجہ ہے کہ دواؤ ں کا استعمال۔دواؤ ں کے سائیڈ ایفیکٹ  کی وجہ سے بھو ک لگنا کم ہوجاتی ہیں۔ خاص طور پر ایسی دوائیں  جو نشہ کا علاج کرنے یا وزن کم کرنے کے لیے دی جائیں ۔ اس کے علاوہ  نشہ آور چیزوں کا استعمال بھی بھوک کو کم کرتا ہے۔ اب آپ کو بھوک بڑھانے کے چند مفیدٹوٹکے بتاتےہیں۔ طب ایوڈ ورد اور طب یونان میں بھوک بڑھانے کے لیے طبیب حضرات  اکثر لیموں اور ادر ک کی چٹنی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں  یہ چٹنی جہاں معدے کی صفائی کرتی ہے۔  وہاں بھوک کی خواہش کو بڑھانے کاباعث بھی بنتی ہے۔ اگر اس چٹنی میں دھنیا بھی شامل کرلیا جائے

تو یہ اور زیادہ مفید  ثابت ہوتی ہے۔ بھوک نہ لگنا اور کھٹی ڈکاریں آنا جیسی علامات محسوس ہورہی ہوں۔ تو ایسے  میں لیموں کی اشکنجبین کا استعمال بہت ہی مفید ثابت ہوتا ہے۔ ایک گلاس پانی میں ایک لیموں نچوڑ کر اس میں تھوڑی شکر یا چینی شامل کریں۔ اور روزانہ استعمال کریں۔ ایک چمچ ادر ک کا رس ، ایک لیموں اور  نمک  کو پانی میں مکس کرکے پینےسے پیٹ کی کئی بیماریاں  ختم ہوتی ہیں۔ اور بھو ک کھل کرلگنے لگتی ہے۔ نمک اور کالی مرچ کو مکس کرکے ہلکا ساگرم کریں اور  پھر اس کو کھالیں۔ اس سے بھی آپ بھوک چمک اٹھے گی۔ اگر بھوک پرانے بخار کی وجہ سے ختم ہوئی ہے۔ اس میں بھی آرام آئےگا۔ اگر آپ بھو ک نہ لگنے کی وجہ سے  بیماری کا شکار ہیں۔ تو صبح کے وقت  سرخ ٹماٹر کاٹ کر اس  پر کالی مرچ  چھڑ ک کرکھائیں اس سے بھی آپ کے بھو ک میں اضافہ ہوگا۔ پیٹ بھر کرکھانا کھانے سے بھوک کم ہوجاتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.