عمرؓ کا معافی مانگنا

ایک مرتبہ سیدنا بلالؓ بیٹھے ہوئے تھے، کوئی بات چلی تو عمرؓ نے کوئی سخت لفظ استعمال کر دیا، جب عمرؓ نے سخت لفظ استعمال کیا تو بلالؓ کا دل جیسے ایک دم بجھ جاتا ہے اس طرح سے ہو گیا اور وہ خاموش ہو کر وہاں سے اٹھ کر چلے گئے، جیسے ہی وہ اٹھ کر گئے، عمرؓ نے محسوس کر لیا کہ انہیں میری اس بات سے صدمہ پہنچا ہے، چنانچہ عمرؓ اسی وقت اٹھے، بلالؓ کو آ کر ملے، کہنے لگے

: اے بھائی! میں نے ایک سخت لفظ استعمال کر لیا، آپ مجھے اس کےلیے معاف کر دیں، نے کہا، جی جی مگر عمرؓ کوتسلی نہیں ہو رہی تھی اس لیے کہ وہ ذرا خاموش خاموش تھے، دل جو دکھا تھا تو جب عمرؓ نے دیکھا کہ بلال کا دل خوش نہیں ہو رہا تو بات کرنےتو بات کرنے کے بعد بلالؓ کے سامنے زمین پر لیٹ گئے اور کہا: بھائی! میرے سینے پر اپنے قدم رکھ دو! میری غلطی کو اللہ کے لیے معاف کر دو! بلالؓ کی آنکھوں سے آنسو آ گئے، امیر المومنین! میں ایسی حرکت کیسے کر سکتاہوں؟ جو بڑے حضرات تھے اپنی زندگی کے معاملے کو ایسے سمیٹا کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی ذات حلیم نہیں۔ وہ انتقام کے لیے جلدی نہیں کرتا اور گناہوں کی سزا میں رزق بند نہیں کرتا نہ اس شخص پر کوئی عذاب لاتاہے ۔ اس اسم پاک یا حلیم کے ذکر سے نہ صرف مرض کی شدت میں کمی ہو جاتی ہے بلکہ یا سلام کے اضافے سے صحت بھی حاصل ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص بیمار ہو اور بیماری شدت سے حملہ آور ہو رہی ہو اور مرض کی شدت کی وجہ سے مریض تکلیف میں ہو تو چاہئے کہ ایسے مریض کے سرہانے بیٹھ کر1100مرتبہ اس اسم پاک کو اول و آخر11مرتبہ درود پاک کے ساتھ اس طرح پڑھنا چاہئے یا حلیم یا سلام۔۔۔اور پانی پر دم کرکے مریض کو پلایا جائے۔ ان شاء اللہ ایسا کرنے سے نہ صرف مریض کے مرض کی شدت میں کمی ہو گی بلکہ اگریا سلام بھی ساتھ لگایا ہے تو مریض کلی طور پر صحت یاب ہو جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

bursa escort beylikdüzü escort akbatı escort