میاں بیوی کے درمیان یہ کام ہوتے ہیں

دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ نے بہت سارے رشتے پیدا فرمائے ہیں۔ جیسے ماں اور بیٹے کا رشتہ ہے۔ بیٹا اور باپ کا رشتہ ہے۔ بہن اور بہن کا رشتہ ہے۔ بھائی اور بھائی کا رشتہ ہے اسی طرح سے بہت سارے اور رشتے ہیں ۔ خالہ کا رشتہ ہے پھوپھو کارشتہ ہے۔ تائی کا رشتہ ہے۔ دادا دادی ، نانانانی اللہ تعالیٰ نے بہت سارے رشتے پیدا فرمائے ہیں۔ ان تمام رشتوں کے اندر سب سے زیادہ نازک اورفضیلت والا جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے اندر بیان کیا۔ اور ارشاد فرمایاکہ : یہ رشتہ ایسا ہے  جو ہماری نشانیوں میں سے ایک ہے۔ وہ ہے میاں اور بیوی کا رشتہ ۔ اکیسویں پارے میں سورت الروم میں اللہ تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں سے اللہ تعالیٰ کی نشانیوںمیں سے ، اللہ تعالیٰ کی قدرت میں سے یہ ایک قدرت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں اور بیو ی کارشتہ بنایا  ہے۔ تاکہ دونوں ایک دوسرے سے چین اور سکون حاصل کرسکیں۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت اور الفت حاصل کرسکیں۔

آج  اس معاشرے کے اندر جہاں اور بہت ساری بیماریاں ہیں۔ وہاں ایک بڑی بیماری نسل کے بگڑنے میں اور بچوں کے خرا ب ہونے میں میاں بیوی کی آپس میں ناچاقیاں کرتے ہیں۔ اور آپس میں ناراضگیاں اور لڑائیاں کرتے ہیں۔ ان کے جھگڑے کا اثر ان کی اولا دپر ہوتا ہے۔ یوں کرکے پورا کا پورا معاشرہ جہاں پر نوجوان نسل اپنے ماں باپ کو لڑتی ہوئی اور الجھتی ہوئی اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ناراض اور بدتمیزی کرتے ہوئے دیکھتی ہے ۔ وہ متنفر سی ہوجاتی ہے۔ آج معاشرے کے بگاڑ کے اندر ایک بہت بڑا کردار اور بہت بڑا حصہ کہ ان کے والدین کا بھی ہے جو آپس کے اندر پیار اور محبت  سے رہنے کے بجائے ، آپس کے اندر الفت  کے ساتھ رہنے کے بجائے ایک دوسرے کا رفیق بننے کے بجائے ایک دوسرے کار فیق بن کر زندگی گزارتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ نف رت کرتے ہیں۔ پتہ نہیں کس کس مجبوری کیوجہ  ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔

ورنہ روزانہ یہ بات اور لڑائی ا ن کے درمیان میں ہوتی ہے۔ میاں کہتا ہےمیں نے بچوں کی وجہ سے رکھا ہوا  ہے۔ اور بیوی بھی کہتی  ہے کہ میں نے بھی بچوں کی وجہ سے گزارہ کیا ہوا ہے یعنی دونوں کے دلو ں میں ایک دوسرے کےلیے نف رت ہے۔ یہ بڑی خطرناک بات ہے۔ اور یہ بڑی ہی افسوس کی بات ہے ۔  کہ جس رشتے کو اللہ تعالیٰ نے اتنا مقد س بنایا۔ جس رشتے  کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات میں سے ایک آیت بنایا۔ اپنی قدرت اور نشانی کا ظہور اللہ تعالیٰ نے اس رشتہ کو قرا ر دیا۔ آ ج ہماری تھوڑی ناسمجھی کی وجہ سے ہمارا وہ رشتہ خراب ہوا بیٹھا ہے۔ بہت سارے شادی شدہ جوڑے اس کے اندر مبتلا ہوچکے ہیں۔ آپ اگر سروے پاکستان کے مدارس اور جتنے بڑے بڑے مدارس ہیں۔ اگر آپ کی اپروچ ہو ان کے دارالفتا تک ۔ آپ وہاں پر جا کر کسی بھی مفتی صاحب سے مسئلے کے بارے میں  پوچھیں۔

تو آپ کو یہ پتہ چلے گا ۔ کہ پورے پاکستان  میں سب سے زیادہ نسبت جس مسئلے کی جارہی ہے وہ ہے طلاق کا مسئلہ اور طلا ق ایک ایسی چیز ہے اللہ تعالیٰ کے نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ : یہ ایسی واحد چیز ہے ۔جو ہے تو جائز ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو سب سے ناپسندیدہ عمل یہ طلاق کا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام بہنوں کے گھروں  کو آباد رکھے۔ اللہ تعالیٰ آپس میں محبت اور الفت کو قائم دائم رکھے۔ بعض دفعہ تھوڑی سی آپس  میں ناچاقی کی وجہ سے ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پاتے۔ اور اپنے مزاج کو خراب کرلیتےہیں۔ بعض بیوی کوئی کام ناز اور نخرے  کے اندر کر رہی ہوتی ہے۔ شوہر اس کو گستاخی سمجھ لیتا ہے۔ اسی طریقےسے بعض دفعہ میاں ایک چیز کو ، ایک بات کو ناز اورنخرے کے انداز میں کررہا ہوتا ہے۔ بیوی اس کو اپنی بے عزتی سمجھ لیتی ہے۔ اور اس کو گستاخی اور بے ادبی سمجھ لیتی ہے۔ یوں آپس میں ان دونوں کا تکرار شروع ہوجاتا ہے

پھر ان کاگھر اجڑ جاتا ہے۔ اور نسل کا بیڑہ غرق ہوجاتا ہے۔ آج جو وظیفہ ہے وہ قرآن پاک  کے اندر دیا گیا وظیفہ ہے۔ بڑا خوبصورت وظیفہ ہے۔ یہ وظیفہ پارہ دس اور سورت الا نفال کی آیت تریسٹھ ہے۔ سورت الانفال کی آیت نمبر تریسٹھ  کے اندر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” والف بین قلوبھم لو انفقت مافی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبھم ولکن اللہ الف بینھم انہ عزیزحکیم” ۔ یہ وظیفہ ہے یہ آیات ہیں۔ آپ نے اس آیت کو اگر میاں کو کوئی مسئلہ ہے تو بیوی نے ۔ اگر بیوی کو مسئلہ ہے تو میاں نے ۔ اس آیت کو روزانہ گیارہ مرتبہ پڑھنا ہے۔ کم ازکم گیارہ مرتبہ پڑھنا ہے اور د ل کےاندر یہ نیت رکھنی ہے۔ کہ ہماری آپس کے اندر  محبت اور الفت کو قائم دائم فرما۔ آپس کی ناچاقیوں کو اور آپس کی ناراضگی کو مولا کریم تو اپنی رحمت سے ختم فرما۔ اور دور فرما۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

bursa escort beylikdüzü escort akbatı escort