ناگ کسیر کی پہچان مزاج استعمال اور فائدے

آج جس جڑی بوٹی کے بارے میں ہم جانیں گے اس کا نا م ہے ناگ کسیر اس کو نا گ سیر بھی کہا جا تا ہے۔ اس کے دیگر ناموں کے بارے میں بتاؤں گا کہ اس کے دیگر نام کیا ہے اس کی پہچان کیا ہے اس کی اجزاء کیا ہیں اور اس کے علاوہ اس کا مزاج کیا ہے۔ دوسری زبانوں میں اس کے نام کیا ہیں اس کی پہچان کے بارے میں اس کے بارے میں ایک چھوٹا سا نوٹ بتا نا ہے اس کا مزاج اس کے افعال اس کا مزاج اور اس کے علاوہ بیرونی استعما لات اور اس کے علاوہ مسئلہ اور اس کی مقدار ِ خوراک بھی بتاؤں گا۔

تو یہ تمام انفارمیشن حاصل کرنے کے لیے میری ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا تا کہ ان معلو ما تی باتوں سے بہت ہی زیادہ فائدہ حاصل ہو سکے اور اس سے بہت ہی زیادہ فائدہ اٹھا کر ان کو استعمال میں بھی لا سکیں۔ اگر ہم اس کے دیگر ناموں کے بارے میں بات کریں تو فارسی میں اسے نار مشک کہا جاتا ہے ہند ی میں اسے ناگ کسیر کہا جا تا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں میں اس کو پکا را جا تا ہے۔ اور انگریزی میں اسے میسیوافریا کہا جا تا ہے اگر میں آپ کو اس کی پہچان کے بارے میں بتاؤں تو اس کا درخت ہرا بھرا رہتا ہے اس کی شاخیں ملائم ہوتی ہیں اور اس کے سرے پر چار چار کمپلیں لگتی ہیں۔

شاخ پونے انچ تک موٹی ہوتی ہے اس کی لکڑی بہت ہی اچھی ہوتی ہے پتے سخت چمڑے کی طرح ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ چوڑے ہوتے ہیں۔ اور اس کی ایک کلی کا منہ بند ہو تا ہے اور اس کی ایک کلی کھلی ہوتی ہے پھول گو ل گول ہوتا ہے اور اس میں بھرے رنگ کے تخم ہوتے ہیں۔ میں نے آپ کو نوٹ بتا نا تھا بازار میں جو ملتا ہے وہ صحیح نہیں ہے وہ دو نمبر ہے وہ بکتا ہے اصلی نہیں ہوتا ہے اور اس سے عطر کی خوشبوآتی ہے۔

اس کا مقامِ پیدائش بنگلہ دیش میں ہوتی ہے برمہ نیپال برہمہ اور سری لنکا میں یہ پیدا ہوتا ہے اس کا مزاج درجہ دوم میں گرم خشک ہوتا ہے افعال اس کے مفرہ مقوی قلب محرک با شریک قابض مجفف معدہ جگر ہابس پسینہ آتا ہے مقوی قلب ہونے کے باعث دماغ وحشت اور جنون میں اس کا استعمال کیا جا تا ہے۔ اس کے عطر کا تلا لگا یا جاتا ہے اس سے تحریک پیدا ہوتی ہے دماغ پر معدہ کے بخارات چڑھنے کو روکتا ہے یہ معدہ جگر کو تقویت دیتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ہر قسم کی بواسیر میں کھلا یا جاتا ہے اگر اس کے پھول کو بھگو کر شہد یا مصری ملا کر پلا یا جا ئے تو خ و ن ی بواسیر ختم ہو جاتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.