نسوں کی کمزوری اور نس دب جانے سے درد کا علاج

کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ جسم میں کسی حصے میں دباﺅ یا طاقت کے نتیجے میں عصبی ریشے دب جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دماغ کو انتباہی سگنل ملتے ہیں۔عصبی ریشے پر دباﺅ کے نتیجے میں پٹھے یا نبض یا شریان میں کھچاﺅ محسوس ہونے لگتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے نس دبنے کا مرض بھی کہا جاتا ہے جو کہ نرو کمپریشن بھی کہلاتا ہے

اس مرض میں عصب کو نقصان پہنچتا ہے اور اس کی علامات میں درد، متاثرہ حصہ سن ہونا اور کمزوری قابل ذکر ہیں۔ اس مسئلے کی انتباہی نشانیاں لوگوں میں مختلف ہوسکتی ہیں کیونکہ ان کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ جسم کے کس حصے میں یہ تکلیف ہورہی ہے۔تاہم اس کی کچھ عام علامات درج ذیل ہیں:سنسناہٹ، جلن، سن ہونا، درد، مسلز کی کمزوری، ایسا درد جس میں سوئیاں چبھنے کا احساس ہو، ایسا لگے کہ متاثرہ حصہ سو گیا ہو۔یہ علامات لیٹنے یا سو کر اٹھنے کے بعد زیادہ تکلیف دہ ہوسکتی ہیں عصب دبنے کے اس مسئلے کے شکار فرد میں دیگر مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جیسے پٹھوں یا عضلات کی نسیجوں کا درد، عرق النسا اور ہتھیلی میں عصب دبنے سے انگلیوں میں درد ہونا وغیرہ س دبنے کا مسئلہ جسم میں کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے تاہم زیادہ تر گردن، کمر، کہنیوں اور ہتھیلیوں میں ایسا ہوتا ہے۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ گھر میں رہتے ہوئے بھی چند کام کرکے اس درد میں کمی لانا ممکن ہے اور ایسے ہی چند ‘گھریلو ٹوٹکے’ درج ذیل ہیں۔عصاب کی بحالی کے نیند لازمی ہے، نیند کے دوران جسم اپنی مرمت کرتا ہے، تو اسے زیادہ وقت دینا نس دبنے کی علامات کو زیادہ تیزی سے کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔بیشتر کیسز میں متاثرہ حصے کو آرام دینے اور اضافی نیند سے نس دبنے کا مسئلہ خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔اس مسئلے کے علاج کے دوران یہ خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اعصاب کا بہت زیادہ استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے یہ مسئلہ زیادہ بدتر بھی ہوسکتا ہے، متاثر افراد کو ایسی سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے جو متاثرہ حصے کے عصب کو متاثر کرے، انہیں سونے کے لیے ایسی پوزیشن اپنانی چاہیے جس سے اعصاب پر دباﺅ میں کمی آئے رمائش اور آئس پیک سے بھی سوجن اور ورم میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

گرمائش اور ٹھنڈک کا امتزاج متاثرہ حصے میں تازہ خ ون کو بہاﺅ میں اضافہ کرسکتا ہے جس سے بھی درد میں کمی لانا ممکن ہوسکتا ہے۔ متاثرہ حصے پر ایک دن میں 3 بار 15 منٹ تک آئس پیک رکھنے سے ورم میں کمی لائی جاسکتی ہے، اسی طرح گرماش پہنچانے والے پیڈا کو دن میں 3 بار ایک گھنٹہ متاثرہ حصے پر رکھنے سے بھی یہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے طویل المعیاد بنیادوں پر چہل قدمی یا ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیوں کو عادت بنانے سے ان علامات میں کمی لانے اور جسمانی ساخت برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اضافی جسمانی وزن کم کرنے سے بھی اعصاب پر دباﺅ میں کمی آتی ہے جبکہ ورک آﺅٹ کو معلوم بنانے سے بھی ورم کو کنٹرول میں رکھنا آسان ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

bullet force multiplayer unblocked shell shockers unblocked