وٹامن ڈی سے بھر پور غذائیں۔

وٹامن ڈی ایک ایسا غذائی جزو ہے، جو جسمانی افعال کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ جسمانی عضلات مثلاً پٹھوں، ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی جبکہ اہم اعضاء دل، گردے، پھیپھڑے اور جگر کے تحفظ کے لیے وٹامن ڈی جسم کو درکار ضروری وٹامنز میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ایسا وٹامن ہے جس کی کمی بہت سی بیماریوں کو دعوت دیتی ہے۔ دنیا بھر کی آبادی کا تقریباًتیراں فیصد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی کے شکار افراد کی اتنی بڑی تعداد قابل غور ہونے کے ساتھ ساتھ تشویش ناک بھی ہےکیونکہ وٹامن ڈی کی کمی انسانی جسم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہے ۔مثلاًوٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں کے بھربھرے پن ،

ہڈیوں کے سوکھنے اور ٹیڑھے ہو جانا، جسم میں درد اور تکلیف کا سبب بنتی ہے ۔وٹامن ڈی کی کمی کے شکار افراد کومستقل تھکاوٹ ، جسم میں درد اور سستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی کمی کی وجہ سے کیلشیم ہڈیوں میں جذب نہیں ہوتا اور پیشانی پر بہت زیادہ پسینہ آنے لگتا ہے۔وٹامن ڈی ہڈیوں میں کیلشیم کو جذب کرنے کی صلاحیت دگنی کردیتا ہے، اس طرح ہڈیوں اور مسلز کی صحت کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ جن افراد میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے، وہ جوڑوں کے درد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کی تشخیص کا عمل آسان نہیں کیونکہ اس کے اثرات طبیعت کی خرابی کا سبب نہیں بنتے۔ تاہم ذیل میں درج علامات کے ذریعے وٹامن ڈی کی کمی کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔

کمزور مدافعتی نظام :مثلاً کسی انفیکشن یا وائرس کے ہوجانے کے بعد صحت یابی میں کافی وقت لگنا،یا پھر چوٹ لگنے کے بعددیر سے ٹھیک ہونا ۔کمر اور جوڑوں میں دردمستقل تھکاوٹ، جسم میں درد اور سستی کا غالب رہنا۔ڈپریشن ،اکتاہٹ اور چڑچڑاپن۔پسینے کی زیادتی۔کمزور مسلز یا تکلیف ہونا وغیرہ۔ انڈے کی زردی بھی ایک ایسی غذا ہے جسے اپنی روزمرہ روٹین میں شامل کرکے وٹامن ڈی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن وٹامن ڈی کے حصول ک لیےفارمی کے بجائے دیسی انڈوں کا استعمال زیادہ فائدہ مند تصور کیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کی رائے کے مطابق دیسی انڈوں میں فارمی انڈوںکے مقابلے وٹامن ڈی کی مقدار3 سے4 گنا زیادہ ہوتی ہے۔

کچھ غذاؤں میں قدرتی طور پر وٹامن ڈی کی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے لیکن اکثر غذائیں ایسی ہیں جن میں فورٹیفیکیشن پروسیس کے دوران وٹامن ڈی کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس لیے فورٹیفائیڈ فوڈ خریدتے وقت ڈبے پر اجزا میں وٹامن ڈی کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔ کچھ فورٹیفائیڈ غذائیں بھی وٹامن ڈی کا اچھا ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ مثلاً گائے کا دودھ ، سویا، بادام کادودھ، اورنج جوس، سیریل، کچھ قسم کے دہی اور ٹوفو وغیرہ ۔ وٹامن ڈی کی کمی سے انسان کئی قسم کی بیماریوں کا شکار ہو جا تا ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم ان غذاؤں کا استعمال کر یں کہ جن کے استعمال سے ہماری باڈی میں وٹامن ڈی کی کمی نہ ہو بلکہ اضافہ ہی اضافہ ہو۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

bullet force multiplayer unblocked shell shockers unblocked