چنے کھانے والوں کے لئے بڑی خبر

ہم لوگ پانچ سے دس لاکھ کی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ کیا یہ گاڑی پیٹرول ہے یا ڈیزل اگر وہ گاڑی پیٹرول پر ہوتی ہے

تو ہم اس گاڑی میں پیٹرول ڈلواتے ہیں اور اگر وہ گاڑی ڈیزل پر ہے تو ہم اس گاڑی میں ڈیزل ڈلواتے ہیں اب میں آپ سے ہی پوچھنا چاہوں گا کہ کیا اگر ہم اس پیٹرول والی گاڑی میں ڈیزل ڈلوابیٹھیں تو کیا یہ گاڑی ٹھیک سے چل پائے گی؟ کیا اس کا انجن خراب نہیں ہوگا۔ اور اگر ہم ڈیزل گاڑی میں پیٹرول ڈلو ا بیٹھیں تو مجھے تبا ئیے کہ کیا اس گاڑی میں مسئلہ مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔ اس کا انجن خراب ہو گا یا نہیں ہوگا۔ضرور ہوگا کیو نکہ ہم نے اس کی طبیعت کے خلاف اس سے بر تا ؤ کیا ہے تبھی اس گاڑی کا انجن خراب ہو گیا ہے۔ تو ہمیں چاہیے کہ ہم ڈیزل والی گاڑی میں ڈیزل پیٹرول والی گاڑی میں پیٹرول ڈلو ائیں تا کہ اس گاڑی کا انجن خراب نہ ہو اور گاڑی اچھے سے اپنا تمام تر کام سر انجام دیتی رہے۔ جیسا کہ آپ سبھی لوگ ہی جانتے ہیں کہ انسانی صحت بہت ہی زیادہ اہمیت کی حامل ہے ایک انسان کو لے کر۔ تو یہاں میں ایک اور بھی کر نا چاہوں گا کہ اگر ہم اس گاڑی میں پیٹرول اور ڈیزل کو لے کر اتنا پریشانی رہتے ہیں تو جو ہماری باڈی ہے تو جو ہمارا جسم ہے اس کو لے کر ہم کیوں نہیں پریشان ہوتے۔

اس کو بھی تو لے کر پریشان ہونا چاہیے مگر ایسا بالکل نہیں دیکھنے میں آرہا کیو نکہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ ہم جو بھی چیز آتی ہے ہم اپنے پیٹ میں ڈالتے ہیں۔نہ یہ دیکھتے ہیں کہ یہ چیز صحت مند ہے اور نہ ہی اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں کہ اچھی اور معیاری چیز ہی ہماری صحت کے لیے مفید ہے۔ ناقص اور غیر معیاری چیزیں ہماری صحت کو نقصان دیں گی۔اسی لیے آج کل بہت سے ایسے معاملات ایسے مسئلے مسائل دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ نوجوانوں میں بوڑھوں سے زیادہ کمزور ی ہو گئی ہے۔ وہ صبح اٹھنے کی کوشش تو کر تے ہیں لیکن کمزور ی کی وجہ سے اٹھ نہیں پاتے۔ یہ کمزور ی انہیں کس وجہ سے ہے۔ یقیناً اسی وجہ سے ہی ہے کہ انہوں نے غیر معیاری چیزوں کا استعمال بہت ہی زیادہ کر دیا اور اس بہت زیادہ استعمال نے ان کی صحت کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایسا ہم آخر کیوں کرتے ہیں۔ ہم اپنی صحت کا خیال کیوں نہیں رکھتے۔ جب کہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ صحت اللہ پاک کی طرف سے بہت ہی اچھی اور بہت ہی نایاب نعمت ہے۔

جو صحت مند نہیں ہیں ان سے جا کر پوچھئے کہ صحت کیا چیز ہے تو ہمیں صحت کے بالکل عین مطابق چیزوں کا استعمال کر نا چاہیے۔باہر کھانا کھانے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ہر خاص وعام بازار کے کھانوں کا شوقین نظر آتا ہے۔جگہ جگہ فوڈ اسٹریٹ قائم ہو چکی ہیں۔جن میں طرح طرح کے کھانے دستیاب ہوتے ہیں۔ہر ویک اینڈ پر باہر جاکر کھانا کھانا سب سے مقبول تفریح بن چکی ہے۔باہر کے کھانے دیکھتے ہی منہ میں پانی بھر آتا ہے لیکن یہ کس طرح تیار ہوتے ہیں اکثر لوگ اس سے نا واقف ہیں۔جب ہم اپنا کھانا خود تیار کرتے ہیں تو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اس میں استعمال ہونے والی ہر چیز صاف ستھری اورخالص ہو۔اس کی تیاری میں کوئی مضر صحت چیز شامل نہ ہو۔جب ہم یہی چیز باہر کھاتے ہیں تو وہ اچھی تو بہت لگتی ہے لیکن اس کے صاف ستھراہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔فوڈ اسٹریٹ اور ریستورانوں میں تیار شدہ یہ کھانے صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہیں۔جو انسانی جسم کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

beylikdüzü escort bahçeşehir escort