کافو ر کے فائد ے کافو ر کا تیل ، معدے کے امراض پیشاب کی جلن، جلد کی بیماریاں

کافو ر طبی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ ایک پودا ہوتا ہے ۔ جسے انگلش میں کیمفور کہتے ہیں ۔ کاشت کرنے کے بعد اس کے بیجوں ، جڑوں اور تنوں میں جو تیل نکلتا ہے۔ اسے کافور تیار کیا جاتا ہے۔ کافور کا درخت نہایت خوبصورت اور سدابہار ہوتاہے۔ اس درخت کی لکڑی میں سے ایک گاڑھا روغن کشید کرکے مشینوں کی مدد سے کافو ر الگ کیا جاتا ہے۔ اس کی جڑوں اورتنوں سے نکلنےوالا روغن خاص طور پر مفید رہتا ہے۔ کیونکہ اس میں کافور کے علاوہ ایک اور دوانی نکلتی ہے

جسے صیفرول کہتے ہیں اپنے کولنگ ایفیکٹ کے باعث یہ تمام جلدی امراض کے لیے نہایت آسان مفید ہوتا ہے۔ کافو ر موثر جراثیم کو کچھ ادویات کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اینٹی سیپٹک اور اینٹی فنگل خصوصیات کے باعث یہ طب میں بہت اہم مقام رکھتا ہے۔ کافو ر کو آپ پانی میں حل کرکے یا پیسٹ کی صورت میں یا اس کے تیل کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ ایسی دوا ہے جس سے جسم کے اندرونی اور بیرونی دونوں مسائل کے حل کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے۔ کافو ر کی لکڑی سے نہایت مضبوط صندوق تیار کیے جاتے ہیں۔ جن میں اگر اونی ، ریشمی یا قیمتی کپڑ ے رکھیں جائیں تو ان کو کیڑا نہیں لگتا بلکہ کپڑے بھی خوشبودار ہوجاتے ہیں۔ کافور دماغ کی گرمی دور کرکے اسے طاقت پہنچاتا ہے۔ معدے کے زخموں کو بھرتا ہے اور پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے۔

حیضہ اور معدے کے امراض میں کافور بہت ہی مفید ثابت ہوتا ہے۔ کافور کے ساتھ اجوائن اور ساتھ پودینہ ، ہم وزن لے کر ان تینوں خشک ادویات کو اگر کسی خالی شیشی میں ڈال کر رکھ دیں ۔ تو کچھ گھنٹوں کے بعد یہ تینوں اجزاء خود بخود تیل کی شکل اختیار کر لیں گے۔ اس تیل کو کافی امرا ض میں استعمال کیاجاتاہے اب یہ بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔ تل کا تیل نیم گرم کرکے کافور شامل کرلیں۔ جب کافو ر اچھی طرح حل ہوجائے تو موسم سرما میں ہونے والے سردرد میں لگانے سے درد دور ہوجاتاہے۔ اس تیل کے سونگھنے سے نکسیر کا خون بھی بند ہوجاتاہے۔ سرما، منجن ، مرہم اور دیگر اشیاء میں کافو ر کا استعمال کیا جاتاہے۔ تپ دق کے مریض کے گلا س میں کافور کی ڈلی جاتی ہے تاکہ یہ پانی جسم میں داخل ہوکر تپ دق کے تمام جراثیم کو ہ۔لاک کردے۔ ی

ہ زخموں کی صفائی کرکے ان کو بھر دیتاہے۔ کلوری ہائیڈریٹ اور کافور ایک ایک اونس ملاکر شیشی میں رکھ لیں۔ بچھو یا زہر یلاکیڑا کاٹ لے وہاں اس دوا کے چار قطرے ڈا ل دیں۔ اس سے آپ کو بہت آرام ملے گا۔ دانت کے درد کی دوا میں کافو ر شامل ہوتاہے جس سے درد میں آرام ملتا ہے۔ چہرے پر نکلنے والے دانوں یہ بہترین علاج ہے۔ جو جلد پر جلن نہیں کرتا۔ جلد پر ہونے والی خارش اور جلن کو بھی کافور لگانے سےیہ دور ہوجاتی ہے۔ کافور کا پیسٹ لگانے سے ناخنوں کو فنگس سے بچایاجاسکتاہے۔ کافور کو پانی میں حل کرکے اس اپنےپاؤں رکھ کر بھگودیں تو اس سے آپ کی ایڑیاں محفوظ رہتی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *