کالی مرچ کھانے کے فائدے اور نقصان کیا ہیں

ہمارے گھروں میں شاید ہی کوئی باورچی خانہ ایسا ہو جہاں کالی مرچ نہ پائی جاتی ہو۔ یہ معروف ترین مصالحوں میں سے ہے اور ہمارے اکثر کھانوں کا حصہ بنتی ہے۔ کالی مرچ کی وجہ سے تیار کیے جانے والے کھانوں کو اچھا ذائقہ مل جاتا ہے مگر کیا آپ نے کبھی یہ سوچا کہ صحت کے لیے یہ کتنی مفید ہے؟

صحت سے متعلق ویب سائٹ “بولڈ اسکائی” کے مطابق کالی مرچ میں ” پیپرین ” نامی ایک فعال عنصر ہوتا ہے جو اس کو خاص ذائقہ دیتا ہے اور اس کے متعدد فوائد کا ذیعہ بنتا ہے۔ ان میں چند اہم ترین یہ ہیں: کہ  کالی مرچ میں سرطانی رسولیوں کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔ دوسرا:  یہ انسانی معدے میں ہائیڈروکلورک ایسڈ کے اخراج میں اضافہ کرتی ہے جس سے ہاضمے کا عمل بہتر ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ معدے کی تیزابیت اور “قبض” کی شکایت کو دور کرتی ہے۔ تیسرا:  کالی مرچ جراثیم کے خلاف خصوصیات کے سبب امتیازی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ آنتوں کو متاثر کرنے والی جرثومی امراض کے علاج میں مدد کرتی ہے۔چوتھا:  کھانے میں لذت کا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ کالی مرچ کھانے کی خواہش میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ پانچواں : اگرچہ کالی مرچ کھانے کی رغبت کو بڑھاتی ہے تاہم اس کے باوجود یہ وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

کالی مرچ کی بیرونی تہہ چربی والے خلیوں کو توڑنے کے لیے حرکت میں لاتی ہے جس سے اچھی صحت برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے اور بہتر طور پر چربی کو گھلانے کے لیے مسلسل توانائی فراہم ہوتی ہے۔ چھٹا:  کالی مرچ سے انسانی معدے میں گیس بننے کا عمل بہت کم ہوجاتا ہے۔ اگر آپ معدے میں گیس کی کثرت سے دوچار ہیں تو پھر اپنے پکوانوں میں کالی مرچ کا اضافہ کیجیے۔ ان تمام امور کے باوجود ہمارے پکوانوں میں کالی مرچ کی مقدار معتدل ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ کالی مرچ زیادتی معدے اور آنتوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ حاملہ اور بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین کو اپنے کھانوں میں کالی مرچ کی زیادتی سے بچنا چاہیے۔

ہر چیز میں اعتدال ہمیشہ سے بہتر ہوتا ہے۔ اعضائے رئیسہ اور جگر اور دماغ کو تقویت دیتی ہے دمہ و کھانسی زکام اور بدہضمی میں نہایت مفید ہے کالی مرچ میں غذائی فوائد کے ساتھ ساتھ قدرت نے شفائی خصوصیات بھی رکھی ہیں اپنی شفائی خصوصیات کی بناءپر ستر   سے زیادہ داخلی اور خارجی امراض میں اس کو استعمال کیا جاتا ہے. کالی مرچ ہمارے ملک میں کثرت سے استعمال کی جاتی ہیں. اکثرکھانوں میںاسے لازمی جز قرار دیا جاتا ہے اس کو فلفل اسودیا فلفل سیاہ بھی کہا جاتا ہے کالی مرچ گرم مصالحے کا ایک لازمی جزہے یہ ریاح کو خارج کرتی ہے ورم کو گھلاتی اوربلغم کی اصلاح کرتی ہے یہ حافظے اور اعصاب کو بھی تقویت بخشتی ہے اس کا چھلکا اتار دیا جائے

تو یہ سفید مرچ بن جاتی ہے چھلکا اتارنے کے لئے کالی مرچ کو پانی میں بھگو کر رکھتےہیں جب چھلکا نرم ہو جاتاہے تو کپڑے سے رگڑ کر چھلکا اتار دیتےہیں تقریباً تمام بادی کھانوں مثلاً کچی سبزیوں ٗ ککڑی ٗکھیرا وغیرہ میں اس استعمال کیا جاتا ہےاس کا بہت زیادہ استعمال صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہوتا کیونکہ اس کے زیادہ استعمال سے معدے کاالسر ہو سکتا ہے یہ اعضائے رئیسہ اور جگر اور دماغ کو تقویت دیتی ہے دمہ و کھانسی زکام اور بدہضمی میں نہایت مفید ہے. کالی مرچ میں غذائی فوائد کے ساتھ ساتھ قدرت نے شفائی خصوصیات بھی رکھی ہیں اپنی شفائی خصوصیات کی بناءپر ستر   سے زیادہ داخلی اور خارجی امراض میں اس کو استعمال کیا جاتا ہے

یہ غذ ا کو بخوبی ہضم کر دیتی ہے اور کھانے میں بے حد لذیذ ہوتی ہے اس کے علاوہ پیٹ کے درد اور بھوک نہ لگنے کی شکایت کے لئے بے حد مفید شئے ہے .قوت بصارت میں اضافے کے لئے گھی اور شکر کے ساتھ کھلایا جاتا ہے کالی مرچ ایک سو پچاس  گرام شکر تیس  گرام تک چمکنی (ایک بوٹی )پیس کرشامل کر لی جائے پانچ گرام سفوف ایک کپ میٹھے دودھ کے ساتھ صبح نہار منہ کھا لیا جائے اور ایک گھنٹے تک پانی نہ پیا جائے . کالی مرچ کا یہ مرکب نہ صرف دماغی امراض بلکہ دوسری سرد بیماریوں میں بھی فائدہ دیتا ہے. کھانسی دمہ سینے کا درد کے لئے نصف گرام کالی مرچ کا سفوف شہد کے ساتھ شامل کر کے چاٹنا مفید ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

bullet force multiplayer unblocked shell shockers unblocked