کن لوگوں کو سونف نہیں کھانی چاہیے

سونف باورچی خانے میں سارا سال استعمال ہونی والی غذا ہے۔ اس کا تعلق اجوائن کے خاندان سے ہے۔ سونف کو گرم مصالحے کے اجزاءمیں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کی خوشبو اور ذائقہ عمدہ ہوتا ہے۔ اس کے پھل کو اینون اور بادیان بھی کہتے ہیں۔ سونف کا پودا75سینٹی میٹر تک لمبا ہوتا ہے۔ اس کابیج خاکستری یا خاکستری بھورا اور 3.2سے 4.8میٹر لمبا بیضوی شکل کا ہوتا ہے۔ اس کے پودے کو دھوپ اور گرمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ منطقہ حارہ کے زیریں علاقوںمیں اچھی طرح نشوونما پاسکتا ہے۔سونف یا بادیان کا اصل وطن مشرقی وسطی ہے۔ اسے قدیم مصر ی بھی کاشت کیا کرتے تھے اور اس کی طبی افادیت اورگھریلو استعمال دونوں سے اچھی طرح آگاہ تھے۔

ابتدائی یونانی اور رومن بھی اس سے متعارف تھے ۔ اب یہ یورپ، ایشیا ئے کوچک، برصغیر، جنوبی ایشیاءاور میکسیکو سے بھی کاشت کیا جاتا ہے۔اس کے اجزا ءمیں پانی ، پروٹین، تیل (اڑ جانے والا تیل) ریشہ، شکر، نشاستہ اور راکھ شامل ہیں۔ سونف کا تیل بے رنگ ہلکا زرد رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کی مخصوص خوشبو اور مخصوص ذائقہ سونف کے بیجوں جیسا ہوتا ہے۔ اس تیل کو طبی مقاصد اور دیگر استعمال کےلئے سونف کے پھل (بیج) کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔سونف کے تیل کا بڑا جزوامینی تھول ہے جو زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہی مخصوص خوشبو پیدا کرتا ہے۔ اس کے تیل میں میتھائیل، شیویکول، پی میتھا ، کسی فینل اکسٹیون اور کچھ مقدار میں تارپین اور سلفر کے مرکبات بھی ہوتے ہیں جن کی بوناگوار ہوتی ہے شفا بخش قوت اور طبی استعمال:سونف اپنے قیمتی اجزاءکی وجہ سے دنیائے طب میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔

یہ آنتوں سےریاح (گیس اور سانس کی نالیوں سے بلغمی مواد خارج کرتی ہے۔) سونف کے بیج عمل تنفس کو تیز اور پیشاب کی مقدار اور اخراج میںاضافہ کرتے ہیں۔نظام ہضم کی بے قاعدگیاں:معدے سے ہوا خارج کرنے کےلئے سونف مثالی دوا ہے۔ اسے دیگر معاون ہضم اشیاءمثلاً ادرک ،زیرے اور کالی مرچ کے ساتھ جوشاندے کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ شیر خوار بچوں کے لیے گرائپ واٹر، سونف کے عرق پر مشتمل ہوتا ہے۔جو شاندہ بنانے کا مناسب طریقہ یہ ہے۔

کہ ایک چمچ سونف کو ایک کپ ابلتے ہوئے پانی میں ڈالیں اور پھر چولھے سے اتار کر رات بھر ڈھک کر رکھ دیں۔ صبح پانی کو نتھار کر شہد کے ساتھ پئیں ۔ بد ہضمی کے لیے یہ مثالی علاج ہے۔ بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ پیٹ میں گڑ گڑ ہوتی ہو۔یہ پیٹ اور آنتوں میں اپھارے اور معدے میں تبخیر کو روکتی ہے۔موتیا بند:سونف موتیا بند کے علاج کے لیے بہت مفید ہے۔ اس مرض میں صبح شام چھ گرام سونف کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ خشک دھنیا (دھنیے کے بیج) اور اس کی ہم وزن سونف لے کر دونوں کو پیس کر اسی مقدار میں شکر (چینی نہیں) کے ساتھ ملا کر بھی لیا جاتا ہے۔ یہ آمیزہ تقریباًبارہ گرام صبح شام کھانا چاہیے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.