کینسر کی بیماری کا سو فیصد شرطیہ علاج

کوئی تعویذ دھاگوں سے بیماریوں کے علاج کا دعویٰ کر رہا ہے، کوئی گٹھلیوں کے سفوف سے دل کی شریانیں کھولنے کا مژدہ سنا رہا ہے، کوئی پھونک مار کر درد ختم کر نے کی گارنٹی دے رہا ہے اور کسی نے رکشے کے پیچھے اشتہار لٹکا رکھا ہے ’کینسر کا شرطیہ علاج ‘! لوگ بیچارے معصوم ہیں، اَن پڑھ ہیں، مہنگا علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے سو کبھی پیر صاحب سے دم کرواتے ہیں اور کبھی کسی نیم حکیم سے جڑی بوٹیاں لے کر استعمال کرتے ہیں.امید انہیں یہ دلائی جاتی ہے کہ کسی جراحی کی ضرورت پڑے گی اور نہ کیمو تھراپی کی، بس یہ نادر دیسی ٹوٹکا استعمال کریں اور کینسر کے موذی مرض سے نجات پائیں۔ مسئلہ مگر یہ نہیں کہ اِس ملک میں جہالت کے خریدار موجود ہیں، مسئلہ یہ ہے۔

کہ اِس جہالت کو بڑھاوا دینے والے اصل میں پڑھے لکھے ہیں جن پر بھروسہ کرکے لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اِن لوگوں نے کینسر جیسے مرض کے بارے میں ایسی غلط معلومات پھیلا دی ہیں کہ لوگ اب ان پر ایمان کی حد تک یقین کرتے ہیں، رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پو ری کر دی ہے جہاں ہر بیماری کا انٹ شنٹ علاج بغیر کسی حوالے اور تحقیق کے دستیاب ہے۔کینسر اصل میں ہمارے جنیاتی مادے میں تبدیلی کا نام ہے، ہمارے جسم میں خلیے تقسیم ہوتے رہتے ہیں، اِن خلیوں کی تقسیم ایک خودکار نظام کے تحت ہر دم مانیٹر ہوتی ہے۔

تاکہ یہ تقسیم درست طریقے سے ہوتی رہے، کسی وجہ سے اگر یہ خودکار نظام کام کرنا چھوڑ دے تو خلیے بہت تیزی سے تقسیم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور انہیں کنٹرول کرنا ممکن نہیں رہتا، اس صورتحال کو کینسر کہتے ہیں۔ ہمیں دیسی ٹوٹکوں، جڑی بوٹیوں اور قدرتی اشیا کے استعمال کے ذریعے شفایاب ہونے کا بہت شوق ہے، یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کیمو تھراپی کے بعد جب بال گرتے ہیں تو سچی بوٹی کے استعمال سے اسے روکا جا سکتا ہے، نوٹ فرما لیں کہ کسی سائنسی تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہو سکابلکہ قدرتی اشیا کا استعمال بعض صورتوں میں ڈاکٹری ادویات کے اثر کو کم بھی کر سکتا ہے۔

آٹھ ماہ پہلے ایک محترم کالم نگار نے انہی صفحات میں لکھا تھا کہ کینسر محض وٹامن B-17کی کمی کا نا م ہے، اگر آپ روزانہ بادام کے 6,7دانے کھا لیں تو B-17کی کمی کی بیماری نہیں ہوتی ہے، بادام کھائیے اور کینسر سے محفوظ رہیے۔ اِس کے علاوہ بھی آنجناب نے کینسر کے سیل ختم کرنے کے بہت سے ٹوٹکے بتائے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ’وٹامنB-17نامی کوئی وٹامن موجود نہیں، یہ ایک غلط اصطلاح ہے جوکہ لیٹرائل کیلئے استعمال کی جاتی ہے جو امیگدالین کی قسم ہے جو کڑوے بادام، خوبانی کے بیج اور میوہ جات میں پایا جانے والا ایک قدرتی جز ہے مگر ان قدرتی اجزا کے بارے میں ہونے والے دعوؤں کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *