گردے ٹھیک ۔ یورک ایسڈ ختم۔

گردے خون میں موجود اضافی سیال اور کچرے کو فلٹر کرتے ہیں اور ان کے افعال متاثر ہونے پر یہ کچرا جمع ہونے لگتا ہےگردوں کے امراض کے شکار افراد میں دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔گردوں کے امراض کی علامات اکثر افراد نظرانداز کردیتے ہیں اور جب تک توجہ دیتے ہیں، اس سے وقت تک جسم کو بہت نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔ہر سال مارچ کی دوسری جمعرات کو گردوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ، جس کا مقصد اس گردوں کے امراض کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے اور ان سے بچنے کے لیے طرز زندگی میں تبدیلیوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

پاکستان میں اس حوالے سے مستند اعدادوشمار تو دستیاب نہیں مگر ایک اندازے کے مطابق لاکھوں افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں جبکہ ایسے مریضوں کی تعداد میں سالانہ 15 سے 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہےپ جو کچھ بھی کھاتے یا پیتے ہیں، گردے ان کو پراسیسر کرتے ہیں، اس میں وہ سب کچھ بھی شامل ہے جو نقصان دہ ہوسکتا ہے جیسے بہت زیادہ چربی، نمک اور چینی۔ وقت کے ساتھ نقصان دہ غذا ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے، ذیابیطس اور دیگر امراض بھی گردوں کے افعال کو مشکل بنادیتے ہیں۔اس کے مقابلے میں صحت بخش غذا جیسے سبزیاں، پھلوں اور اجناس کا زیادہ استعمال اور کم پراسیس غذائیں گردوں کی صحت کو مستحکم رکھتی ہے۔صحت بخش غذا کی طرح ورزش بھی ذیابیطس اور امراض قلب جیسے مسائل سے بچانے میں مدد دیتی ہے جو کہ گردوں کو نقصان پہنچانے والے عوامل ہیں۔

مگر اچانک ہی سست طرز زندگی کو چھوڑ کر بہت زیادہ ورزش کرنا بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے، کیونکہ اگر جسم اس جسمانی مشقت کے لیے تیار نہ ہو تو گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آسان حل تو یہ ہے کہ ہفتے میں کم از کم پانچ دن تیس سے ساٹھ منٹ تک ورزش کریں، اگر کافی عرصے سے ورزش نہیں کررہے تو آسان ورزشوں سے آغاز کریں اور کسی بیماری کی صورت میں ڈاکٹر سے پہلے مشورہ کرلیںیوریک ایسڈ خاموش قات ل ہے اور عام طور پر لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کے جسم میں یوریک ایسڈ بڑھ رہا ہے ہائپرورسیمیا جسم میں یوریک ایسڈ بڑھنے کی ایک خطرناک بیماری ہے جو دل گُردوں جگر وغیرہ کو متاثر کرنے کیساتھ ساتھ ہائی کولیسٹرول اور شوگر جیسی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتی ہے

جب کوئی اس بیماری کا شکار ہوتا ہے تو عام طور پر اُسے بلکل احساس نہیں ہوتا کہ وہ ہائپرورسیمیا کو شکار ہو رہا ہےہمارے جسم میں یوریک ایسڈ کی نارمل مقدار جو کہ دو اشاریہ چار سے لیکر چھ اشاریا صفر ایم جی تک ہے ہر وقت موجود ہوتی ہے اور جو یوریک ایسڈ زیادہ مقدار میں ہوتا ہے وہ عام طور پر پیشاب کے راستے خارج ہو جاتا ہے مگر اگر اس کی مقدار جسم میں بڑھ جائے تو پھر یہ خون میں شامل ہوکر جسم کے اہم اعضا کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور خطرناک بیماریوں کا باعث بنتا ہےخون میں پیورائنز بھی یوریک ایسڈ پیدا کرتے ہیں یہ جسم کے اندر خود بخود بھی پیدا ہوتے ہیں اور ہمارے بہت سے کھانے بھی پیورائنز کی زیادہ تعداد پر مشتمل ہوتے ہیں

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

beylikdüzü escort bahçeşehir escort