گرمیوں میں بہت زیادہ پسینہ آ نے کا علاج۔

اگرچہ پسینہ آنا ایک قدرتی عمل ہے جو جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے تاہم دیگر افراد کے مقابلے میں آپ کے جسم پر زیادہ پانی بہہ رہا ہو تو یہ کافی برا لگتا ہے۔ اگر اچانک بہت زیادہ پسینہ خارج ہونے لگے تو یہ ہارٹ اٹیک کی پہلی علامت یا کسی قسم کی دل کی بیماری کا عندیہ ہوسکتا ہے، اگر آپ کو ہارٹ اٹیک کا شبہ ہو تو جتنا جلد ہوسکے طبی امداد کے لیے رجوع کریں۔ اگر بہت زیادہ پسینے کے ساتھ سینے میں تکلیف کا احساس بھی ہو تو بھی یہ دل کے کسی سنگین عارضے کی علامت ہوسکتی ہےبہت زیادہ پسینے کی شکایت کے ساتھ بخار ہو تو یہ ملیریا یا ٹی بی کی جانب اشارہ ہوسکتا ہے، بخار جسمانی درجہ حرارت میں تبدیلی کا نتیجہ ہوتا ہے جس کے دوران دماغ خودکار طور پر جسمانی درجہ حرارت کو کچھ بڑھا دیتا ہے تاکہ جسم میں موجود انفیکشن سے لڑ سکے۔

کئی بار ذہنی تناﺅ کے نتیجے میں پسینے کا اخراج بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، تناﺅ اور ذہنی بے چینی صرف جسم پر ہی منفی اثرات مرتب نہیں کرتے بلکہ پسینے کی شکل میں بھی وارننگ دیتے ہیں، عام طور پر جب تناﺅ کے شکار لوگوں کو زیادہ پسینہ آتا ہے تو اس کی بو بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اس میں چربی اور پروٹین کا مکسچر جلد پر موجود بیکٹریا کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔اگر تھائی رائیڈ گلینڈ بہت زیادہ متحرک ہوجائیں اور بہت زیادہ تھائی رائیڈ ہارمون بنانے لگیں تو اس کے نتیجے میں جسم میں متعدد علامات سامنے آتی ہیں، جیسے نروس یا ذہنی الجھن وغیرہ، مگر اس کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ پسینہ بھی خارج ہونے لگتا ہے، یہ اس ات کی علامت ہوتا ہے کہ اب ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔ویسے تو بہت زیادہ پسینے کا اخراج مختلف وجوہات کا نتیجہ ہوسکتا ہے

مگر کئی بار یہ بلڈ شوگر لیول بہت زیادہ کم ہونے سے بھی ہوتا ہے، ایسی حالات میں اس وقت بھی پسینہ خارج ہوتا ہے جب موسم زیادہ گرم نہیںہوتا، بلڈ شوگر لیول کم ہونے سے بہت زیادہ بھوک، ذہنی بے چینی، سر چکرانے اور بینائی کے مسائل جیسی علامات سامنے آتی ہیں ہائیپر ہائیڈ روسز نامی عارضہ اپنی علامت بہت زیادہ پسینے کے اخراج کی شکل میں ظاہر کرتا ہے۔ اس سے پورا جسم یا مخصوص حصے جیسے ہاتھ، ہتھلیاں، پیروں کے تلوے، چہرے، سینے وغیرہ پر بہت زیادہ پسینہ خارج ہوتا ہے جبکہ باقی حصوں پر اس کا اخراج معمول کے مطابق ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ابھی یہ تو معلوم نہیں کہ کچھ افراد اس کا شکار کیوں ہوتے ہیں، بس اندازہ ہے کہ مخصوص غدود زیادہ متحرک ہوجاتے ہیں۔ یہ عارضہ کسی بھی عمر میں اور کسی بھی لمحے لاحق ہوسکتا ہے تاہم زیادہ تر بالغ افراد اس کے شکار زیادہ ہوتے ہیں، مگر بوڑھے اور بچے بھی اس میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔بہت زیادہ پسینے کا اخراج ممکنہ طور پر ادویات کے استعمال کا نیتجہ بھی ہوسکتا ہے، اس میں خوفزدہ ہونے کی بات نہیں ہوتی بلکہ مختلف ادویات جیسے اینٹی بایوٹیکس، بلڈ پریشر کی ادویات وغیرہ کے استعمال سے سامنے آنے والا ایک عام سائیڈ ایفیکٹ ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.