ہاتھ اور پاؤں کاسن ہونا اور سوئیاں چھبنا

کیا آپ کے ہاتھ اور پاؤں سن ہوجاتےہیں یا پھر ان میں سوئیاں چھبنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ اکثر دیکھا ہوگا کہ زیادہ دیر تک بیٹھنے سےیا کسی اور طریقے سے ہاتھ اور پاؤں سن  ہوجاتے ہیں۔ ان میں سوئیاں چھبنے کا احساس ہوتاہے۔ کبھی کبھار  ایسا ہونا غیر معمولی بات نہیں ۔ مگر جب یہ معمو ل بن جائے تو ضرور خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔ اگر سوئیاں چھبنے کے ساتھ دیگر علامات جیسے درد، جلن یا سن کا احساس ہوتو یہ جسم کی جانب سے مختلف امراض کا انتباء ہوسکتا ہے۔ ایسے چند وجوہات کی بنا پر آپ کو تفصیل سے بنائیں گے۔ ہائی بلڈ شوگرسے اعصاب کوپہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں ہاتھوں اور پیروں کا سن ہونا یا سوئیاں چھبنا بہت عام سی بات ہے۔ اگر شوگر کا علاج نہ کروایا جائے تو دیگر علامات جیسے بہت زیادہ پیاس لگنا،زیادہ پیشاب آنایا سانس میں بو ہونا، سامنے آسکتی ہیں۔

اگر ہاتھوں اور پیروں میں سوئیاں چھبنے کے ساتھ دیگر علامات نظر آئیں تو  خو ن کا ٹیسٹ کروائیں تاکہ اعصاب کو مزید نقصان سے بچایا جاسکے۔ حمل کے دوران بچے کی نشوونما اور اسہال بڑھنے  سے جسمانی اعصاب بڑھنے لگتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ہاتھوں اور پیروں کا سن ہونا اور سوئیاں چھبنا جیسے احسا سات ہوسکتے ہیں۔ یہ مسئلہ بچے کی پیدائش کے بعد عموماً ختم ہوجاتا ہے۔ ہاتھوں یا پیروں میں کسی وجہ سے دباؤ یا طاقت کے نتیجے میں عصبی ریشے دب جاتے ہیں۔ جس سے ہاتھوں او رانگلیوں  کا سن ہونا اور سوئیاں چھنبے کا احساس ہوسکتا ہے۔ کہ ہاتھوں اور انگلیوں میں محسوس کرنے کی  صلاحیت ختم ہوگئی ہے۔ اس کےلیے ڈاکٹر سے رجو ع کرنا چاہیے ۔ وہ اس کے لیے حل تجویز کرسکتےہیں۔ آٹو امیون امراض جیسے جسمانی قوت مدافعت نظام کو جسم کے خلاف جیسے اعصاب کے خلاف متحر ک کر دیتے  ہیں۔

جس سے ہاتھوں اور پیروں میں سوئیاں چھبنے کا احساس  ہوسکتا ہے۔ اس کےلیے اپنے ڈاکٹر سے رجو ع کرکے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کریں۔ اگر جسم میں وٹامن بی، ای کی کمی ہوتو اس کے اثرات اعصاب اور جسم کے دیگر حصوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ جس کی عام علامات میں ہاتھوں او رپیروں میں سوئیاں چھبنے کا احساس ہوتا ہے۔ اب اس کی وجہ غذا کا درست استعمال نہ ہونا، خون کی کمی اور جینیاتی مرض ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر خون کا ٹیسٹ کر کے ایک وٹامنز لیول کو چیک کرکے غذائی تبدیلیاں، سپلیمنٹس اور دیگر طریقے کی تجاویز دے سکتے ہیں۔

متعدد وائرل اور دیگر بیکٹریا انفیکشن سے بھی اعصا ب کو نقصا ن پہنچتا ہے۔ جس سے ہاتھوں اورپیروں میں سوئیاں چھبنے اور سن ہونے جیسے احسا سا ت ہوسکتےہیں۔ ایسے وائرس جیسے لمفی امراض ، شینگل ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور سی سے ایسا ہوسکتا ہے۔ گردے جسم سے ایسے زہریلے مواد کو خارج ہوتے ہیں۔ جو اعصاب کو نقصان پہنچا سکتےہیں۔ اگر گردے ٹھیک طرح کام نہ کریں تو اعصاب متاثر ہوسکتےہیں۔ گردے فیل ہونے کی دو سب سے بڑی اہم وجوہات شوگر اور ہائی بلڈ پریشر ہیں۔ ڈیالائسز مختلف مدت کےلیے اس بیماری کا علاج ہے۔ اور طویل المعیاد علاج گردوں کی پیوند کاری ہوتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.