ہر ی مرچ کے فائدے

ہزاروں سال پہلے انسان خوراک کو ہضم کرنے کیلئے مرچوں کو مختلف شکلوں میں استعمال کرتا چلا آرہا ہے۔ماہرین نے ہر ی مرچ کو ایک پھل قرار دیا ہے اور خیال ظاہرکیاہے کہ ہری مرچ کے خاص جزو کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی تلخی کو ختم کرنے کیلئے مرچ کی ایک نئی نسل تیار کی جاسکتی ہے جس سے مٹاپے کو کم کرنے کیلئے بطور پھل استعمال کیا جاسکتا ہے۔ہمارے یہاں ہری مرچ کے بغیر کھانے میں مزے کا تصورہی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کھانے کو تو مزیدار بناتی ہی ہے، ساتھ ہی صحت کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔یہی وجہ ہے کہ آیورودیدک اور چینی ادویات مناسب عملِ انہضام کے لیے ہری مرچ کے استعمال کی تجویز کرتی ہیں ، کیونکہ یہ معدے سے نکلنے والی رطوبتوں کے بہاؤ کو بہتر بناتی ہے اور انھیں متحرک کرتی ہے۔

اس کے علاوہ مرچیں ، کھانا ہضم کرنے اور بھوک بڑھانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔ قدیم زمانے کے لوگ مرچوں کو باقاعدہ ادویات کے طور پر استعمال کرتے تھے۔یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے طبی ماہرین کے مطابق جو لوگ ہری مرچوں کی تلخی برداشت نہیں کرسکتے وہ مرچوں کے ایک خاص جزو ’’کیپسکین‘‘سے تیار شدہ گولیاں استعمال کرسکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مرچوں کی حرارت کو مختلف جانور چربی پگھلانے کیلئے استعمال کرتے ہیں اور جنگلی سطح پر مرچوں کی نسل کے پودوں کو خاص طور پر اس وقت استعمال کرتے ہیں جب ان کے معدے زیادہ کھانے کی وجہ سے خراب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ  ہم آپ کوہری مرچ کے دیگر فوائدسے آگاہ کرتے ہیں۔ہری مرچ میں اینٹی آکسیڈ ینٹس ہوتا ہے جو جسم کی دفاعی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔

اس سے کینسر سے لڑنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ہری مرچ میں وٹامن سی بھرپور پایا جاتا ہے، جو کہ قدرتی مدافعتی نظام کو بہتر کرتا ہے۔ اس سے بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت بہترہوتی ہے۔ہری مرچ میں وٹامن ای موجود ہوتا ہے، جو جلد کے لیے صحت بخش قدرتی تیل بناتا ہے۔ اس سے جلد ملائم اور اچھی ہو جاتی ہے۔ ہری مرچ سے غذائیت تو ملتی ہی ہے، ساتھ ہی یہ کیلوری کے بغیر ہوتی ہے۔ ہری مرچ میں بالکل کیلوری نہیں ہوتی۔ہری مرچ میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں جس سے انفیکشن نہیں ہوتا۔ ہری مرچ کھانے سے جلد پرہونے والے امراض سے نجات ملتی ہے۔کھانوں میں ہری مرچوں کا استعمال معدے کے درد گیس اور مروڑ کے لیے انتہائی مفید ہے۔گرمی کے دنوں میں ہری مرچ پیاز کی طرح لو سے بچاتی ہے۔نزلہ و زکام میں مرچوں کا استعمال بے

حد فائدہ مند ہے ، کیوں کہ مرچوں کی تیزی اور تیکھا پن ناک اور گلے سے نکلنے والی رطوبتوں کو متحرک کرتا ہے ، جس سے ناک کی سانس لینے والی نالیاں صاف ہوجاتی ہیں اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ہندوستان میں اکثر گاؤں کے لوگ پھیپھڑوں ، ناک یا سینے کی بندش یا جکڑ جانے کی صورت میں مرچوں کو باقاعدہ طور پر سبزی میں استعمال کرتے ہیں۔حالیہ تحقیق سے بھی ثابت ہوگیا ہے کہ مرچ کا استعمال مریض کو ہارٹ اٹیک سے بچاتا ہے ، کیوں کہ مرچیں خ ون میں کولیسٹرول کی مقدار کو کم کر دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ مرچ فاسد مادوں کو تحلیل خ ون کو منجمد کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ مرچوں کا استعمال جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے اور اس میں موجود وٹامن سی سنگترے میں موجود وٹامن سے 6 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.