یورک ایسڈ جیسی جان لیوہ بیماری کا جڑ سے خاتمہ۔

یورک ایسڈ۔ ایک بات یاد رکھو بہت دفعہ ایسا ہو تا ہے کہ رپورٹس میں کچھ اور آتا ہے اور طبیعت میں کچھ اور ہوتا ہے ۔ میں بتا تا ہوں یہی جو میں نے بتا یا ہے کوئی میڈیسن نہیں کلونجی میتھی دانے کا پانی لیں گے اس میں دو چمچ سیب کا سرکہ ملا ئیں گے ایک گلاس کھانے سے پہلے صبح اور ایک گلاس کھانے سے پہلے دوپہر کو یہ دس دن آپ پئیں گے اور یہ جو چیزیں بتائی ہیں ۔ یہ جو چیزیں بتائی ہیں ادرک پودینے انار دانے کی چٹنی پودینہ اس کی عادت بنا ؤ انشاء اللہ انشاء اللہ اسی سے ٹھیک ہو جا ئیں گے۔ ملاوٹ سے بھرپور اور مصنوعی غذائی اجزاء کے استعمال سے معدے کی قدرتی کارکردگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گئی ہے۔

سگریٹ و چائے نوشی،بازاری مشروبات و بیکری مصنوعات،مرغن اور چٹخارے دار خوراک اور تیز مسالہ جات و فاسٹ فوڈز کے بے دریغ استعمال نے معدے اور انتڑیوں کے افعال واعمال کا ستیا ناس کر دیا ہے۔ تیزابیت،تبخیر اور گیس کی ایک بڑی وجہ قبض سمجھی جاتی ہے۔جب قبض کے سبب انتڑیوں میں فاسد مادوں کا اجتماع ہوتا ہے تو طبیعت میں ناگواری،بے چینی اور اضطرابی کیفیت کا اظہار سامنے آتا ہے۔ معدے میں تیزابی مادے بہت زیادہ جمع ہوجاتے ہیں تو ان کا اخراج گردوں کے رستے بذریعہ بیشاب مشکل ہوجاتا ہے اور یہی تیزابی مادے بعد ازاں جسم کے مختلف جوڑوں میں جمع ہو کر نقرص،گھنٹیا، شائیٹیکا پین، کمر درد،گردے ناکارہ کرنے ،کولیسٹرول کی افزائش، بلڈ پریشر ،امراض قلب اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا باعث بنتے ہیںجب یورک ایسڈ مطلوبہ مقدار سے بڑھتاہے ۔
تو جسم میں مختلف امراض کی علامات رو پزیر ہونے لگتی ہیں۔ ایک صحت مند انسان کے جسم سے اضافی یورک ایسڈ کی مقدار کو گردے پیشاب کے رستے خارج کرتے رہتےہیں لیکن جب اس کی مقدار زیادہ بڑھ جائے تو گردے بھی اسے خارج کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ یورک ایسڈ کی بڑھی ہوئی مقدار یوریا کی شکل میں گردوں کی کارکردگی کو متاثر کرنے سمیت جسم کے جوڑوں میں کرسٹل بن کر جمع ہونے لگتی ہے جو بعد ازاں جوڑوں کی حرکات و سکنات میں رکاوٹ کا باعث بن کر درد اورسوجن کا سبب بن جاتی ہے۔

یورک ایسڈ کے مسائل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بدن میں اس کی مطلوبہ مقدار سے زیادہ جمع نہ ہونے دیا جائے۔ یورک ایسڈ کی غیر ضروری افزائش سے بچنے کے لیے معدے اور انتڑیوں کی کار کردگی کا درست ہونا لازمی ہے۔ معدے میں تیزابیت، تبخیراور گیس کی علامات کو پیدا ہونے سے روکا جائے۔اس کا بہترین حل یہی ہے کہ کم از کم 8 گھنٹے کے وقفے سے کھانا کھایا جائے۔کھانے کے فوری بعد سونے اور نہانے سے بچا جائے۔کھانا کھاتے ہی مشقت والا کام بھی نہ کیا جائے ۔ سخت محنت والا کام کرنے کے فوراً بعد ٹھنڈا پانی پینے سے بھی پرہیز کیا جائے۔رات کا کھانا کھاتے ہی لیٹنے اور سونے سے بھی احتیاط کرنی چاہیے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

bullet force multiplayer unblocked shell shockers unblocked