”یہ ایک چیز دہی میں ملا کر چہرے پر لگا لیں اور پھر جا دو دیکھیں ۔ کیا کمال ہو تا ہے؟“

دہی پروٹین کیلشیم سے بھرپور ہو تا ہے اسے ایک صحت بخش غذا کے طور پر استعمال کیا جا تا ہے

جس سے جسم کو بے پناہ فوائد حاصل ہو تے ہیں جسم کے دیگر اعضاء کے ساتھ ساتھ یہ جلد کے لیے بھی بے حد مفید ہے دہی میں ایسے اجزاء موجود ہو تے ہیں جو جلد کو جوان اور تر تازہ رکھتا ہے اس سے جلد نرم و ملائم ہو جا تی ہے دہی سے کیل مہاسے بھی ختم ہو تے ہیں اور رنگت صاف ہو تی ہے جلد پر دہی کو با قاعدہ استعمال کر نے سے جلد چمکدار ہو جا تی ہے اور چھائیاں دور ہو جا تی ہیں تو آج ہم آپ کو بتائیں گے دہی جلد کے لیے کس قدر مفید ہے ۔ لیکن آگے بڑھنے سے قبل آپ سے گزارش ہے کہ میری ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا تا کہ آپ کو ان باتوں سے بہت ہی زیادہ فائدہ حاصل ہو سکے۔

دہی کو استعمال کرنے کے لیے ایک سے دو چھوٹے چمچ دہی میں چند قطرے دہی کے شامل کر دیں۔ یہ جلد کو نئی لک دے گا جس کی مدد سے آپ کی جو جلد ہے وہ خوش گوار ہو جا ئے گی اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی جلد پر جو کیل مہاسے ہیں وہ ختم ہو جا ئیں گے ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری جلد پر کسی بھی قسم کا کوئی داغ دھبا نہ ہو تو ہمیں چاہیے کہ ہم دہی کو کھا ئیں بھی صحیح اور اپنی جلد پر لگا ئیں بھی صحیح۔ اس کے لیے چار بڑے چمچ دہی میں ایک چھوٹا ناریل کا پاؤڈر اور ایک چھوٹا چمچ شہد شامل کر یں۔ اس مر کب کو بیس منٹ کے لیے چہرے پر لگا ئیں پھر تازہ پانی کے ساتھ دھو لیں۔ اس کے علاوہ دہی میں مسور کی دال کا پاؤڈر اور ارنجی کے چھلکوں کا پاؤڈر ہم وزن شامل کر کے لگا یا جا سکتا ہے اسے پندرہ منٹ کے لیے لگا رہنے دیں

اگر آپ کی جلد خشک ہے تو شہد بھی شامل کر لیں جلد نرم و ملائم ہونے کے ساتھ ساتھ چمک دار بھی ہو جا ئے گی۔ دہی سے ایک زبردست سکرب تیار کیا جا سکتا ہے۔ دہی میں سکربنگ خصوصیات کی وجہ سے اس کا مساج کرنے پر جلد کے جو مردہ سخرات ہو تے ہیں وہ ختم ہو جا تے ہیں دہی میں چاول کو شامل کر لینے سے آپ کی جلد پر بہت ہی زیادہ اچھے اثرات مرتب ہوں گے چاول دہی میں شامل کر کے ایک گاڑھا سا پیسٹ بنا لیں اس سے چہرے پر گلائی میں مساج کر یں تھوڑی دیر بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔ چاول کی جگہ جو کا آٹا بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ چہرے کے دو رنگی ہونے ، دانے ، کیل مہاسوں کی وجہ سے چہر ہ جو ہے وہ بے ر و نق ہو جا تا ہے جس کے لیے یہ جو دہی ہے وہ بہت ہی کام آ سان کر دے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

bursa escort beylikdüzü escort akbatı escort