یہ دو پتیاں کمزوری اور تھکاوٹ ،کولیسٹرول،موٹاپا، دل کی بیماریاں نہیں ہونے دیں گی

آج کل ہم لوگ اپنے گھر کی خوبصورتی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اسی لئے گھر میں ایسے پودے ہم نہیں لگاتے جو دیکھنے میں اچھے نہیں لگتے

لیکن پرانے زمانے میں ایسا نہیں تھا پرانے زمانے میں گھروں میں ایسے پیڑ پودے تھے جو صحت کے لئے اچھے ہوتے تھے چاہے وہ دیکھنے میں اچھے لگیں نہ لگیں لیکن آج کل ہم وہی پیڑ پودے لگانا پسند کرتے ہیں جو دیکھنے میں اچھے لگیں یہ بہت ہی بڑی غلطی ہے پرانے زمانے کے دو ایسے پیڑ جو تقریبا ہر گھر میں ہوتے تھے اور وہ پیڑ ہیں نیم اور امرود کا پیڑ نیم اور امرود یہ ایسے پیڑ ہیں جو ہمارے جسم کی کئی بیماریوں کو ختم کرتے ہیں اسی وجہ سے ان دونوں پیڑوں کو پرانے زمانے کے لوگ اپنے گھروں میں ضرور لگاتے تھے ویسے یہ پیڑ دیکھنے میں آپ کو پالم ٹری جیسے خوبصورت تو نہیں لگیں گے لیکن ان کے فائدے بہت زیادہ ہیں لیکن آج کل اگر میں کہوں کہ آپ گھر میں نیم کا پیڑ لگالو تو لوگ کہتے ہیں

کہ نہیں یہ دیکھنے میں اتنا اچھا نہیں لگتا اسی لئے ہم اسے نہیں لگائیں گے تو یہ آپ کی بہت ہی بڑی غلطی ہے اور ہمیں ایسا نہیں سوچنا چاہئے اگر ہم اپنے گھروں میں ایسے پیڑ پودے لگاتے ہیں جو ہماری صحت کے لئے اچھے ہیں جیسے کہ مروے کا پودا تلسی کا پودا یہ ایسے پیڑ پودے ہیں جو ہمیں بہت سی بیماریوں سے بچاتے ہین تو ہمیں انہیں اپنے گھروں میں ضرور لگانا چاہئے تاکہ ہمارے گھر میں کوئی بھی برے بیکٹیریاز انٹر ہی نہ ہوں ۔نیم ایک گرم پودا ہے جو کہ بھارت میں بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔ بھارتی اور چینی دوائوں کے طور پر نیم کا استعمال اس وقت سے کر رہے ہیں جب عالمی سطح پر کوئی نیم کے بارے میں ٹھیک سے جانتا بھی نہیں تھا۔ نیم کا درخت واحد ہے جس کےتقریبا تمام حصے روایتی طور پر مختلف علاج کے لیے استعمال کیےجاتے ہیں جن میں نیم کے پتے، پھول، بیچ، جڑیں اورچھال وغیرہ شامل ہے۔نیم سے دور ہونے والی بیماریوں میں’ سوزش، انفیکشن، بخار، جلد کی بیماریاں، دانتوں کی خرابی اور دیگر بیماریاں شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ نیم کا سب سے بڑا فائدہ ذیابیطس کے مریضوں کے خون میں شوگر کی لیول کو کم کرنا ہے۔ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیم کے شربت کا روزانہ استعمال شوگر کے شکار افراد کے لیے بہت مفید ہے۔

لیکن اس بات کا خاص خیال رہے کہ حد سے زیادہ نیم کا استعمال صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور اگر نیم کا استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیا جائے تو بہتر ہے۔امرود کے جہاں اور بیشمار فائدے ہیں وہاں یہ خُون میں بڑھی ہُوئی شوگر کو کنٹرول کرنے کی خوبی سے بھی نوازا گیا ہے اور بہت سی میڈیکل سائنس کی تحقیقات کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ امرود کے پتے بھی شوگر کو خون میں بڑھنے نہیں دیتے اور امرود کے پتے انسولین ریزسٹینس خوبیوں کے حامل ہیں اور یہ بات ذیابطیس کے مریضوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔ماہرین کی ایک ریسرچ کے مُطابق امرود کے پتوں کا قہوہ کھانے کے بعد پینے سے 2 گھنٹے تک خون میں بڑھنے والی شوگر کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے اور تحقیق کےمطابق کھانے کے فوراً بعد امرود کے پتوں کا قہوہ خون میں 10 فیصد تک شوگر لیول کم کرتا ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ امرود کے پتے انسولین کا مُتبادل ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

beylikdüzü escort bahçeşehir escort